ہجری اور عیسوی تاریخ کی تبدیلی — اسلامی کیلنڈر کنورٹر
By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa
مختصر جواب: ہجری (اسلامی) کیلنڈر ایک قمری نظام ہے جس کا سال بارہ مہینوں اور تقریباً ۳۵۴ دنوں پر مشتمل ہوتا ہے — یعنی شمسی (عیسوی) سال سے قریباً ۱۱ دن کم۔ کسی بھی عیسوی تاریخ کو ہجری میں یا ہجری تاریخ کو عیسوی میں بدلنے کے لیے اوپر دی گئی سہولت میں تاریخ درج کریں اور نتیجہ فوراً دیکھ لیں۔
عیسوی → ہجری
ہجری → عیسوی
یہ اُم القریٰ تقویم استعمال کرتا ہے۔ ہر اسلامی مہینے کا آغاز مقامی رؤیتِ ہلال پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے حتمی دن میں ±۱ دن کا فرق ممکن ہے۔
اہم نکات
- ہجری کیلنڈر قمری (چاند پر مبنی) ہے، جب کہ عیسوی کیلنڈر شمسی (سورج پر مبنی) ہے۔
- ہجری سال میں بارہ مہینے اور تقریباً ۳۵۴ دن ہوتے ہیں، جو شمسی سال سے تقریباً ۱۱ دن کم ہیں۔
- ہر مہینہ ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے، کیونکہ چاند کا دورہ اسی کے قریب رہتا ہے۔
- ہجری تقویم کا آغاز ہجرتِ مدینہ سے ہوتا ہے، اور سال کے ساتھ ”ھ“ (ہجری) کا نشان لگایا جاتا ہے۔
- مہینے کا آغاز رؤیتِ ہلال پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے حقیقی دن میں ±۱ دن کا فرق ممکن ہے۔
- اُم القریٰ ایک حسابی (calculated) تقویم ہے جو پہلے سے تاریخیں طے کر دیتی ہے، اسی پر یہ سہولت مبنی ہے۔
ہجری کیلنڈر کیا ہے؟
ہجری کیلنڈر مسلمانوں کا وہ روایتی تقویمی نظام ہے جو چاند کی چال پر قائم ہے۔ اسے قمری کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں مہینے کا دارومدار چاند کے نئے دورے پر ہوتا ہے، نہ کہ سورج پر۔ اس کے مقابلے میں عیسوی (گریگورین) کیلنڈر شمسی ہے، یعنی زمین کے سورج کے گرد ایک چکر کو بنیاد بناتا ہے۔
ہجری سال بارہ مہینوں پر مشتمل اور تقریباً ۳۵۴ دن کا ہوتا ہے۔ چونکہ شمسی سال قریباً ۳۶۵ دن کا ہوتا ہے، اس لیے ہجری سال ہر بار عیسوی سال سے تقریباً ۱۱ دن مختصر رہتا ہے۔ ہر ہجری مہینہ ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے، کیونکہ چاند کا ایک مکمل دورہ اسی مدت کے قریب مکمل ہوتا ہے۔ ہجری تقویم کا آغاز ہجرتِ مدینہ کے واقعے سے شمار کیا جاتا ہے، اور اسی مناسبت سے سال کے ساتھ ”ھ“ کا نشان لگایا جاتا ہے۔
سہولت سے تبدیلی کیسے کریں (دونوں طرف)
اوپر دی گئی سہولت دو طرح سے کام کرتی ہے، اور دونوں سمتوں میں تاریخ بدلنا نہایت آسان ہے۔
عیسوی سے ہجری: اگر آپ کے پاس کوئی عیسوی تاریخ ہے، تو ”عیسوی → ہجری“ کا خانہ چنیں اور تاریخ منتخب کریں۔ نتیجہ اسی وقت ہجری سال، مہینے اور دن کی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ یہ طریقہ کسی سالگرہ، تاریخی واقعے یا سرکاری تاریخ کی اسلامی مطابقت جاننے کے لیے کارآمد ہے۔
ہجری سے عیسوی: اگر آپ کو معلوم ہجری تاریخ کو عیسوی میں بدلنا ہو، تو ”ہجری → عیسوی“ کا خانہ چنیں اور دن، مہینہ اور سال (ھ) درج کریں۔ ”تبدیل کریں“ دباتے ہی اس کی عیسوی مطابقت مل جائے گی۔ یہی طریقہ رمضان، عید یا کسی دینی مناسبت کی متوقع عیسوی تاریخ معلوم کرنے کے لیے مفید ہے۔
بارہ اسلامی مہینے
ہجری سال کے بارہ مہینے ترتیب کے ساتھ درج ذیل ہیں۔ ہر مہینہ اپنے چاند کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ۲۹ یا ۳۰ دن پر مکمل ہوتا ہے۔
| نمبر | مہینہ | دورانیہ |
|---|---|---|
| ۱ | محرم | ۲۹–۳۰ |
| ۲ | صفر | ۲۹–۳۰ |
| ۳ | ربیع الاول | ۲۹–۳۰ |
| ۴ | ربیع الثانی | ۲۹–۳۰ |
| ۵ | جمادی الاولیٰ | ۲۹–۳۰ |
| ۶ | جمادی الثانیہ | ۲۹–۳۰ |
| ۷ | رجب | ۲۹–۳۰ |
| ۸ | شعبان | ۲۹–۳۰ |
| ۹ | رمضان | ۲۹–۳۰ |
| ۱۰ | شوال | ۲۹–۳۰ |
| ۱۱ | ذوالقعدہ | ۲۹–۳۰ |
| ۱۲ | ذوالحجہ | ۲۹–۳۰ |
ہجری تاریخ ہر سال پہلے کیوں آتی ہے؟
بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ رمضان اور عید ہر سال عیسوی کیلنڈر کے لحاظ سے کچھ دن پہلے آ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سیدھی سی ہے: ہجری سال شمسی سال سے تقریباً ۱۱ دن چھوٹا ہے۔ چونکہ قمری بارہ مہینوں کی کل لمبائی تقریباً ۳۵۴ دن ہے اور شمسی سال قریباً ۳۶۵ دن کا ہے، اس لیے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسلامی تاریخیں عیسوی کیلنڈر پر آگے کی طرف کھسکتی رہتی ہیں۔
اسی وجہ سے اسلامی مہینے آہستہ آہستہ تمام موسموں سے گزرتے ہیں۔ مثلاً رمضان کچھ برسوں میں گرمیوں میں آتا ہے تو چند سال بعد سردیوں میں۔ یہی خصوصیت ہجری کیلنڈر کو مکمل طور پر چاند سے جڑا اور موسم سے آزاد رکھتی ہے۔
رؤیتِ ہلال بمقابلہ اُم القریٰ
اسلامی مہینے کا آغاز روایتی طور پر رؤیتِ ہلال یعنی نئے چاند کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ چونکہ چاند مختلف علاقوں میں مختلف اوقات پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے ایک ہی مہینہ مختلف ممالک میں ایک دن آگے یا پیچھے شروع ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی حسابی تاریخ میں ±۱ دن کا فرق بالکل فطری ہے۔
دوسری طرف اُم القریٰ ایک حسابی (calculated) تقویم ہے جسے سعودی عرب میں انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ فلکی حساب کی بنیاد پر مہینوں کی ابتدا پہلے سے طے کر دیتا ہے، تاکہ تاریخیں معلوم اور مستقل رہیں۔ اوپر دی گئی سہولت بھی اُم القریٰ پر مبنی ہے، اس لیے وہ مستقل نتیجہ دیتی ہے — البتہ مقامی چاند کے اعلان سے ایک دن کا فرق ممکن ہے، اور دینی معاملات میں مقامی رؤیت ہی معتبر سمجھی جاتی ہے۔
تبدیلی کے فائدے (مواقع اور زکات کا حول)
ہجری اور عیسوی تاریخوں کے درمیان تبدیلی روزمرہ اور دینی دونوں کاموں میں مدد دیتی ہے۔ یہ سہولت اسکول، دفتر اور سرکاری کاغذات میں تاریخوں کی مطابقت رکھنے میں کام آتی ہے، کیونکہ زیادہ تر ادارے عیسوی کیلنڈر پر چلتے ہیں جبکہ دینی مناسبتیں ہجری پر۔
دینی مواقع کی منصوبہ بندی میں بھی یہ مفید ہے: رمضان کا آغاز، عیدالفطر، عیدالاضحیٰ اور ذوالحجہ کے ایام کی متوقع عیسوی تاریخیں پہلے سے جاننا آسان ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر زکات کے لیے یہ تبدیلی اہم ہے۔ زکات کا حول (سال) قمری حساب سے شمار کیا جاتا ہے، یعنی جس دن آپ کا مال نصاب کو پہنچے، اس کے ایک قمری سال بعد زکات واجب ہوتی ہے۔ چونکہ قمری سال شمسی سے تقریباً ۱۱ دن چھوٹا ہے، اس لیے ہجری تاریخ پر حول کا حساب رکھنا زیادہ درست رہتا ہے۔ آپ اپنی زکات کی رقم زکوٰۃ کیلکولیٹر سے معلوم کر سکتے ہیں، اور آج کی اسلامی تاریخ کا صفحہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
عمومی سوالات
کیا تبدیل شدہ تاریخ میں فرق ممکن ہے؟ جی ہاں۔ مہینے کا آغاز مقامی رؤیتِ ہلال پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے حسابی تاریخ اور مقامی اعلان میں عموماً زیادہ سے زیادہ ایک دن کا فرق ممکن ہے۔
ہجری سال میں کتنے دن ہوتے ہیں؟ تقریباً ۳۵۴ دن، جو شمسی سال سے قریباً ۱۱ دن کم ہیں۔
یہ رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ تاریخوں کی تبدیلی حسابی اُم القریٰ تقویم پر مبنی ہے اور مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق اس میں ±۱ دن کا فرق ممکن ہے۔ دینی معاملات اور زکات کے حول کے حتمی فیصلے کے لیے اپنے مقامی معتبر عالم یا ادارے سے رجوع کریں۔
Frequently asked questions
ہجری اور عیسوی کیلنڈر میں بنیادی فرق کیا ہے؟
ہجری کیلنڈر قمری یعنی چاند پر مبنی ہے، جبکہ عیسوی کیلنڈر شمسی یعنی سورج پر مبنی ہے۔ اسی لیے ہجری سال تقریباً ۳۵۴ دن اور عیسوی سال قریباً ۳۶۵ دن کا ہوتا ہے۔
ہجری سال میں کتنے دن اور مہینے ہوتے ہیں؟
ہجری سال میں بارہ مہینے اور تقریباً ۳۵۴ دن ہوتے ہیں۔ ہر مہینہ ۲۹ یا ۳۰ دن پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ یہ چاند کے دورے کے مطابق طے ہوتا ہے۔
اسلامی تاریخیں ہر سال پہلے کیوں آتی ہیں؟
کیونکہ قمری سال شمسی سال سے تقریباً ۱۱ دن چھوٹا ہے، اس لیے اسلامی مہینے ہر سال عیسوی کیلنڈر پر تقریباً ۱۱ دن آگے کھسک جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ تمام موسموں سے گزرتے ہیں۔
اُم القریٰ تقویم کیا ہے؟
اُم القریٰ ایک حسابی تقویم ہے جو فلکی حساب کی بنیاد پر مہینوں کی ابتدا پہلے سے طے کر دیتا ہے۔ اوپر دی گئی سہولت اسی معیار پر مبنی ہے، اس لیے اس کے نتائج مستقل اور معلوم رہتے ہیں۔
کیا تبدیل شدہ تاریخ میں فرق ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، مہینے کا آغاز مقامی رؤیتِ ہلال پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے حسابی تاریخ اور مقامی اعلان میں عام طور پر ±۱ دن کا فرق ممکن ہے۔
زکات کے لیے کون سا کیلنڈر استعمال ہوتا ہے؟
زکات کا حول قمری (ہجری) سال کے مطابق شمار کیا جاتا ہے۔ جس دن مال نصاب کو پہنچے، اس کے ایک قمری سال بعد زکات واجب ہوتی ہے، اس لیے ہجری تاریخ پر حساب رکھنا زیادہ درست رہتا ہے۔
سہولت سے تاریخ کیسے بدلیں؟
اوپر دی گئی سہولت میں سمت منتخب کریں — عیسوی سے ہجری یا ہجری سے عیسوی — پھر تاریخ درج کریں یا چنیں۔ نتیجہ فوراً سامنے آ جائے گا۔