The Zakat Calculator

زکوٰۃ کیلکولیٹر (سونا، نقدی، مالِ تجارت)

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

—

💵 نقدی اور بینک

🪙 سونا اور چاندی

📈 سرمایہ کاری اور کاروبار

➖ قرض منہا کریں

یہ رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ زکات کے احکام مسلک اور حالات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں — اپنی صورتحال پر حتمی فیصلے کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

مختصر جواب: زکوٰۃ کیلکولیٹر آپ کے سونے، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت کی کل مالیت جوڑ کر، اس میں سے قرض نکال کر باقی ماندہ رقم پر ڈھائی فیصد (2.5%) لاگو کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ مال نصاب کے برابر ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔

اہم نکات

  • زکوٰۃ کی شرح مال کا ڈھائی فیصد (چالیسواں حصہ، 1/40) ہے۔
  • نصاب = 87.48 گرام سونا (تقریباً ساڑھے سات تولہ) یا 612.36 گرام چاندی (تقریباً ساڑھے باون تولہ)۔ ایک تولہ ≈ 11.66 گرام۔
  • مال پر ایک قمری (چاند کا) سال گزرنا ضروری ہے، جسے حول کہتے ہیں۔
  • نقدی، بینک بیلنس اور مالِ تجارت پوری قیمت پر شمار ہوتے ہیں۔
  • واجب الادا قرض کل مال سے منہا کیا جاتا ہے۔
  • اگر ملکیت میں سونا اور چاندی دونوں ہوں تو عام طور پر چاندی کا نصاب بنیاد بنایا جاتا ہے تاکہ فقراء کو زیادہ فائدہ ہو۔

زکوٰۃ کیلکولیٹر کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

زکوٰۃ کیلکولیٹر ایک آسان آن لائن آلہ ہے جو آپ کے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کو یکجا کر کے، ان میں سے واجب قرض نکال کر، خالص مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ کی رقم خودکار طور پر نکال دیتا ہے۔ ذہنی حساب کتاب میں اکثر کوئی نہ کوئی مد بھول جاتی ہے یا فیصد لگانے میں غلطی ہو جاتی ہے؛ کیلکولیٹر یہ کام درست اور فوری کر دیتا ہے۔ تاہم یہ صرف حساب کا ذریعہ ہے، شرعی فتویٰ نہیں؛ پیچیدہ صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع بہتر ہے۔

زکوٰۃ کن اموال پر فرض ہے؟

زکوٰۃ بنیادی طور پر بڑھنے والے مال پر عائد ہوتی ہے۔ اس میں سونا، چاندی، نقدی، بینک میں جمع رقم، قرض جو دوسروں کو دیا ہو اور واپسی کی توقع ہو، مالِ تجارت (فروخت کی نیت سے رکھا سامان)، اور سرمایہ کاری کے وہ اثاثے شامل ہیں جو تجارت کے لیے رکھے گئے ہوں۔ ذاتی استعمال کی اشیاء جیسے رہائشی مکان، پہننے کے کپڑے، گھریلو سامان اور روزمرہ کی سواری پر زکوٰۃ نہیں۔

پہلی شرط: نصاب

نصاب وہ کم از کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو نصاب 87.48 گرام (ساڑھے سات تولہ) ہے، اور اگر صرف چاندی ہو تو 612.36 گرام (ساڑھے باون تولہ)۔ جب کسی کے پاس نقدی اور مختلف اثاثے ملے جلے ہوں تو جمہور علماء کے نزدیک چاندی کے نصاب کی مالیت کو معیار بنانا مستحب ہے، کیونکہ اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں اور مستحقین کو زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے نصابِ زکوٰۃ کا صفحہ دیکھیں۔

دوسری شرط: حول (سال کا گزرنا)

زکوٰۃ اُسی مال پر فرض ہوتی ہے جو نصاب کو پہنچنے کے بعد پورے ایک قمری سال آپ کی ملکیت میں رہے۔ اسے حول کہتے ہیں۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے، اس لیے تاریخ کا تعین اسلامی مہینوں کے حساب سے کرنا زیادہ درست ہے۔ درمیانِ سال مال گھٹتا بڑھتا رہے تو کوئی حرج نہیں؛ صرف سال کے آغاز اور اختتام پر نصاب کا موجود ہونا دیکھا جاتا ہے۔

تیسری بات: شرح ڈھائی فیصد

خالص قابلِ زکوٰۃ مال پر شرح ہمیشہ ڈھائی فیصد رہتی ہے، یعنی ہر چالیس روپے پر ایک روپیہ۔ رقم نکالنے کا سادہ فارمولا یہ ہے: خالص مال ÷ 40 یا خالص مال × 0.025۔ دونوں کا نتیجہ ایک ہی آتا ہے۔

کیلکولیٹر میں کیا کیا درج کریں؟

درست نتیجے کے لیے ہر مد کی موجودہ مالیت درج کریں۔ نیچے جدول میں عام مدّات دی گئی ہیں:

مال کی قسم زکوٰۃ میں شامل؟ وضاحت
نقدی و بینک بیلنس ہاں ہاتھ میں یا اکاؤنٹ میں موجود پوری رقم
سونا و چاندی ہاں موجودہ بازاری قیمت کے حساب سے مالیت
مالِ تجارت ہاں فروخت کی نیت سے رکھا سامان، فروخت قیمت پر
وصول طلب قرض ہاں جو رقم دوسروں کو دی اور واپسی کی توقع ہو
رہائشی مکان و ذاتی گاڑی نہیں ذاتی استعمال کی اشیاء مستثنیٰ ہیں
واجب الادا قرض منہا کل مال سے نکال دیا جاتا ہے

عملی مثال (مکمل حساب)

فرض کریں سال کے اختتام پر آپ کے پاس یہ اثاثے ہیں: نقدی اور بینک بیلنس 4,00,000 روپے، مالِ تجارت 1,00,000 روپے، اور 2 تولہ سونا۔ فرضی طور پر سونے کی قیمت 2,00,000 روپے فی تولہ مان لیں تو 2 تولہ سونے کی مالیت 4,00,000 روپے ہوئی۔ آپ پر ایک شخص کا 50,000 روپے واجب الادا قرض بھی ہے۔

کل اثاثے = 4,00,000 + 1,00,000 + 4,00,000 = 9,00,000 روپے۔ قرض منہا = 9,00,000 − 50,000 = 8,50,000 روپے خالص مال۔ چونکہ یہ چاندی کے نصاب سے کہیں زیادہ ہے، زکوٰۃ فرض ہے۔ زکوٰۃ = 8,50,000 × 0.025 = 21,250 روپے۔ (قیمتیں محض مثال کے لیے فرض کی گئی ہیں؛ اصل حساب موجودہ بازاری قیمت پر کریں۔)

قابلِ کٹوتی واجبات اور اخراجات

صرف وہی قرض منہا کیے جاتے ہیں جو حقیقتاً واجب الادا ہوں، مثلاً کسی سے لیا ہوا ذاتی قرض، بقایا کرایہ یا رواں بل۔ آئندہ برسوں کی طویل قسطیں پوری کی پوری منہا کرنے کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں؛ محتاط طریقہ یہ ہے کہ صرف رواں سال کی واجب قسط منہا کی جائے۔ ایسی صورت میں کسی مستند عالم سے رہنمائی لیں۔

عام غلطیاں جن سے بچیں

کئی لوگ زیورات کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ جمہور کے نزدیک سونے چاندی کے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔ بعض افراد شمسی سال کے حساب سے تاریخ مقرر کر لیتے ہیں جس سے سالوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ ایک اور غلطی صرف نقدی پر زکوٰۃ نکالنا اور سونے یا مالِ تجارت کو نظر انداز کرنا ہے۔ درست حساب کے لیے تمام مدّات شامل کریں۔

زکوٰۃ کی اہمیت اور حکمت

زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور قرآن میں بارہا نماز کے ساتھ اس کا ذکر آیا ہے۔ اس کی حکمت صرف غریبوں کی مالی مدد نہیں بلکہ دولت کو گردش میں رکھنا، مال کی محبت سے دل کو پاک کرنا، اور معاشرے میں محتاج اور خوشحال طبقے کے درمیان ہمدردی کا رشتہ قائم کرنا بھی ہے۔ جب صاحبِ حیثیت لوگ باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو معاشرے سے محرومی اور بے چینی میں کمی آتی ہے اور مال میں برکت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ کو محض ٹیکس یا خیرات نہیں بلکہ ایک عبادت اور سماجی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔

کیلکولیٹر استعمال کرتے وقت احتیاطیں

کیلکولیٹر ایک مددگار آلہ ضرور ہے مگر اس کا نتیجہ اسی وقت درست ہوگا جب آپ اعداد و شمار ٹھیک درج کریں۔ سونے چاندی کی وہی قیمت لکھیں جو ادائیگی والے دن بازار میں چل رہی ہو۔ مالِ تجارت کی مالیت فروخت کی موجودہ قیمت پر لگائیں، لاگت پر نہیں۔ اگر کسی مد کے بارے میں شک ہو کہ وہ قابلِ زکوٰۃ ہے یا نہیں، تو اسے شامل کر کے کسی عالم سے تصدیق کر لیں۔ نیز یہ ذہن میں رہے کہ کیلکولیٹر آپ کے مذہب کی تمام باریکیوں کو نہیں جانتا، اس لیے پیچیدہ صورتوں میں اسے حتمی نہ سمجھیں۔

متعلقہ رہنمائی

مزید سمجھنے کے لیے یہ صفحات مفید ہیں: نصابِ زکوٰۃ، زکوٰۃ کیسے نکالیں، سونے کی زکات، زکوٰۃ کن کو دی جائے، اور فطرانہ۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

آج کی ہجری تاریخ اور رمضان و عیدین کے کاؤنٹ ڈاؤن کے لیے آج کی اسلامی تاریخ دیکھیں۔

Frequently asked questions

زکوٰۃ کیلکولیٹر کیا حساب لگاتا ہے؟

یہ آپ کے سونے، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت کی کل مالیت جوڑ کر، واجب قرض منہا کرنے کے بعد خالص رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے قابلِ ادا زکوٰۃ بتاتا ہے۔

زکوٰۃ کی شرح کتنی ہے؟

خالص قابلِ زکوٰۃ مال کا ڈھائی فیصد یعنی چالیسواں حصہ (1/40)۔ مثلاً ہر ایک لاکھ روپے پر 2,500 روپے زکوٰۃ بنتی ہے۔

کیا نقدی اور بینک بیلنس دونوں شامل ہوتے ہیں؟

جی ہاں، ہاتھ میں موجود نقدی اور بینک اکاؤنٹ میں جمع رقم دونوں پوری مالیت پر قابلِ زکوٰۃ ہیں، بشرطیکہ مجموعی مال نصاب کو پہنچے اور اس پر سال گزر جائے۔

کیا کیلکولیٹر میں قرض بھی درج کریں؟

جی، واجب الادا قرض کل مال سے منہا کیا جاتا ہے۔ صرف حقیقتاً واجب رقم درج کریں؛ آئندہ برسوں کی طویل قسطوں کے بارے میں محتاط رہیں اور ضرورت پر عالم سے رجوع کریں۔

سونے اور چاندی کی قیمت کس بھاؤ پر لگائیں؟

زکوٰۃ کی ادائیگی والے دن کی موجودہ بازاری قیمت پر لگائیں، نہ کہ خریداری کے پرانے بھاؤ پر۔ کیلکولیٹر میں تازہ قیمت درج کرنا ضروری ہے۔

اگر مال سال کے دوران گھٹتا بڑھتا رہے تو؟

درمیانِ سال کمی بیشی سے حکم نہیں بدلتا۔ صرف سال کے آغاز اور اختتام پر نصاب کا موجود ہونا دیکھا جاتا ہے؛ دونوں وقت نصاب موجود ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔

کیا نتیجہ فتویٰ کے طور پر لیا جا سکتا ہے؟

نہیں۔ کیلکولیٹر صرف حساب میں مدد دیتا ہے۔ اختلافی یا پیچیدہ مسائل میں اپنے مذہب کے مطابق کسی مستند عالم سے رہنمائی ضروری ہے۔