قبلہ رخ کیسے معلوم کریں؟ | قبلہ کی سمت کا آن لائن کمپاس
By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa
مختصر جواب: قبلہ سے مراد مکہ مکرمہ میں واقع خانہ کعبہ کی سمت ہے، جس کی طرف رخ کر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ اپنے مقام سے قبلہ کی درست سمت جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اوپر دی گئی سہولت استعمال کریں، جو آپ کے مقام اور فون کے قطب نما (کمپاس) کی مدد سے کعبہ کی سمت (بیئرنگ) شمال سے ڈگریوں میں دکھاتی ہے۔
قبلہ مکہ میں کعبہ کی سمت ہے (21.4225° شمال، 39.8262° مشرق)، جو حقیقی شمال سے زاویے کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ فون کے قطب نما سینسر غیر درست ہو سکتے ہیں — نماز سے پہلے کسی قابلِ اعتماد قطب نما سے تصدیق کریں۔
اہم نکات
- قبلہ ہمیشہ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ (تقریباً 21.42° شمالی عرض بلد، 39.83° مشرقی طول بلد) کی سمت ہوتا ہے۔
- قبلہ کی سمت اصل (حقیقی) شمال سے ایک زاویے (بیئرنگ) کی صورت میں بیان کی جاتی ہے، جو ہر شہر کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
- اوپر دی گئی سہولت آپ کے مقام اور فون کے قطب نما کو ملا کر قبلہ کی سمت دکھاتی ہے۔
- فون کے قطب نما میں مقناطیسی مداخلت یا کیلبریشن کی کمی سے غلطی آ سکتی ہے، اس لیے تصدیق ضروری ہے۔
- انٹرنیٹ نہ ہو تو سورج، قطب تارے یا قریبی مسجد کے محراب سے بھی قبلہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
- اگر سمت کا یقین نہ ہو تو دیانتداری سے پوری کوشش کر کے جس سمت غالب گمان ہو اسی طرف رخ کر لیا جائے۔
قبلہ کیا ہے؟
قبلہ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے وہ سمت جس کی طرف رخ کیا جائے۔ اصطلاح میں قبلہ سے مراد مکہ مکرمہ میں واقع خانہ کعبہ کی سمت ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان نماز کے دوران اسی ایک مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی ملک یا براعظم میں ہوں۔ یہی وحدت اور ترتیب اسلام کی ایک نمایاں پہچان ہے کہ کروڑوں لوگ روزانہ ایک ہی نقطے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قبلہ کوئی مبہم “مغرب” یا “مشرق” نہیں، بلکہ آپ کے اپنے مقام سے کعبہ کی طرف ایک مخصوص زاویہ ہے۔ اسی لیے ہر جگہ کے لیے قبلہ کا زاویہ الگ الگ نکالا جاتا ہے۔
یہ سہولت کیسے کام کرتی ہے؟ (مقام اور قطب نما)
اوپر دی گئی سہولت دو چیزوں کو جوڑ کر کام کرتی ہے۔ پہلی چیز آپ کا مقام ہے: جب آپ اجازت دیتے ہیں تو آپ کا فون یا براؤزر آپ کے موجودہ عرض بلد اور طول بلد کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس کے بعد سہولت آپ کے مقام اور کعبہ کے مقام کے درمیان کرہِ ارض پر مختصر ترین راستے کا زاویہ (great-circle bearing) شمار کرتی ہے۔ یہی زاویہ قبلہ کی سمت ہے، جو اصل شمال سے ڈگریوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
دوسری چیز آپ کے فون کا قطب نما ہے، جو موبائل کے مقناطیسی حساس آلے (magnetometer) سے جانتا ہے کہ اس وقت فون کا رخ کس طرف ہے۔ سہولت دونوں کو ملا کر ایک تیر دکھاتی ہے: جب آپ فون گھماتے ہیں تو تیر بتاتا ہے کہ کعبہ کس طرف ہے، اور تیر مقررہ نشان پر آ جائے تو وہی آپ کے سامنے قبلہ کی سمت ہے۔ بہتر نتیجے کے لیے فون کو زمین کے متوازی پکڑیں اور دھات یا مقناطیس سے دور رہیں۔
انٹرنیٹ کے بغیر قبلہ کیسے معلوم کریں؟
ہر وقت انٹرنیٹ یا اسمارٹ فون دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے چند روایتی طریقے جاننا مفید ہے:
سورج کی مدد سے: سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں غروب ہوتا ہے، اور دوپہر کو آسمان کے بلند ترین مقام پر ہوتا ہے۔ اپنے علاقے کے لیے قبلہ کا تقریبی زاویہ معلوم ہو تو آپ سورج کی موجودہ سمت کو حوالہ بنا کر اسی زاویے کی طرف رخ کر سکتے ہیں۔
قطب تارے کی مدد سے: شمالی نصف کرہ میں رات کے وقت قطب تارہ (Polaris) تقریباً عین شمال کی طرف نظر آتا ہے۔ ایک بار شمال معلوم ہو جائے تو آپ اپنے شہر کے قبلہ زاویے کے مطابق رخ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
قریبی مسجد سے: سب سے آسان اور بھروسے مند طریقہ یہ ہے کہ قریبی مسجد کے محراب یا صفوں کی سمت دیکھ لیں، کیونکہ عام طور پر انہیں مقامی طور پر درست قبلہ پر بنایا جاتا ہے۔ سفر کے دوران کسی مقامی باشندے یا مسجد کے ذمہ دار سے پوچھ لینا بھی مناسب ہے۔
فون قطب نما کی درستگی اور کیلبریشن
فون کا قطب نما ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتا۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں: قریب موجود دھاتی اشیاء، بجلی کے تار، اسپیکر، فون کا کیس یا کوئی مقناطیس مقناطیسی میدان کو بگاڑ سکتے ہیں، جس سے سمت غلط دکھائی دیتی ہے۔ عمارتوں کے اندر، لفٹ کے قریب یا گاڑی میں یہ غلطی بڑھ جاتی ہے۔
ایک اور نکتہ “مقناطیسی شمال” اور “اصل شمال” کا فرق ہے۔ قطب نما مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ قبلہ کا زاویہ اصل (جغرافیائی) شمال سے ناپا جاتا ہے؛ اچھی سہولتیں یہ فرق خود درست کر لیتی ہیں، مگر معمولی فرق پھر بھی رہ سکتا ہے۔ درستگی بہتر بنانے کے لیے فون کو ہوا میں انگریزی کے حرف 8 کی طرح چند بار گھمائیں (کیلبریشن)، دھاتی سطحوں سے ہٹ کر کھلی جگہ استعمال کریں، اور اگر ممکن ہو تو نتیجے کو کسی دوسرے ذریعے، مثلاً قریبی مسجد کی سمت، سے ملا کر تصدیق کر لیں۔
بڑے شہروں سے قبلہ کی تخمینی سمت
نیچے چند شہروں سے قبلہ کی تخمینی سمت دی جا رہی ہے، جو اصل شمال سے ڈگریوں میں ہے۔ یہ صرف عمومی رہنمائی کے لیے ہیں؛ آپ کے محلے کی درست سمت اوپر دی گئی سہولت زیادہ بہتر بتائے گی۔
| شہر | قبلہ کی تخمینی سمت (اصل شمال سے) | عمومی رخ |
|---|---|---|
| کراچی | تقریباً 267° | تقریباً مغرب |
| لاہور | تقریباً 262° | مغرب کی جانب |
| اسلام آباد | تقریباً 255° | مغرب کی جانب |
| دہلی | تقریباً 267° | تقریباً مغرب |
| ڈھاکہ | تقریباً 278° | مغرب سے شمال کی طرف |
| لندن | تقریباً 119° | جنوب مشرق |
یاد رہے کہ یہ اعداد تخمینی ہیں اور شہر کے اندر مختلف مقامات پر معمولی فرق ممکن ہے۔ حتمی سمت کے لیے اپنے عین مقام پر سہولت یا مقامی مسجد پر اعتماد کریں۔
نماز میں استقبالِ قبلہ کی اہمیت
نماز کی درستی کے لیے قبلہ رخ ہونا ایک بنیادی شرط ہے۔ اسی لیے مسلمان نماز شروع کرنے سے پہلے قبلہ کی سمت کا اطمینان کرتے ہیں۔ تاہم اسلام میں آسانی کا اصول بھی موجود ہے: اگر کوئی شخص پوری کوشش اور تحقیق کے بعد کسی سمت کو غالب گمان کے ساتھ قبلہ سمجھ کر نماز پڑھ لے اور بعد میں معلوم ہو کہ سمت میں کچھ فرق تھا، تو عام طور پر اس کی نیک نیتی پر مبنی نماز کو قبول سمجھا جاتا ہے۔
سفر، جہاز یا نامانوس علاقے میں جہاں سمت کا یقین مشکل ہو، وہاں دستیاب ذرائع سے بہترین اندازہ لگا کر رخ کر لینا کافی سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی بات درست سمت جاننے کی سنجیدہ کوشش ہے، اور شک کی صورت میں مقامی مسجد سے رہنمائی لی جائے۔
عملی مشورے اور احتیاطیں
سہولت استعمال کرتے وقت مقام کی اجازت (location permission) آن رکھیں، فون کا قطب نما استعمال سے پہلے کیلبریٹ کریں اور دھاتی میز، موبائل اسٹینڈ یا مقناطیسی کیس سے دور رہیں۔ اگر ایک بار درست سمت معلوم ہو جائے تو گھر یا دفتر میں اس کے مطابق ایک نشان لگا لینا مفید ہے۔ اگر آپ زکوٰۃ یا دیگر عبادات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو ہمارا زکوٰۃ کیلکولیٹر اور آج کی اسلامی تاریخ والے صفحات بھی کارآمد ہو سکتے ہیں۔
عمومی سوالات
ذیل میں قبلہ سے متعلق چند عام سوالوں کے مختصر جواب دیے گئے ہیں تاکہ آپ کے بنیادی خدشات دور ہو سکیں اور سہولت کا استعمال آسان ہو جائے۔
یہ صفحہ اور اوپر دی گئی سہولت عمومی رہنمائی کے لیے ہیں۔ فون کے قطب نما اور مقام کے تخمینے میں معمولی غلطی ممکن ہے، اس لیے اہم مواقع پر نتیجے کی تصدیق قریبی مسجد یا کسی مستند ذریعے سے کر لیں۔ دینی معاملات میں حتمی فیصلے کے لیے اپنے مقامی مستند عالم سے رجوع کریں۔ یہ رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔
Frequently asked questions
قبلہ رخ سے کیا مراد ہے؟
قبلہ رخ سے مراد وہ سمت ہے جس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی جاتی ہے، یعنی مکہ مکرمہ میں واقع خانہ کعبہ کی سمت۔ یہ سمت آپ کے مقام سے کعبہ کی طرف ایک مخصوص زاویہ ہوتی ہے جو اصل شمال سے ناپا جاتا ہے۔
کیا فون کا قطب نما ہمیشہ درست قبلہ بتاتا ہے؟
نہیں، فون کا قطب نما ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتا۔ قریب موجود دھات، مقناطیس، بجلی کے تار یا کیلبریشن کی کمی سے سمت میں فرق آ سکتا ہے۔ اس لیے فون کو کیلبریٹ کریں، دھاتی اشیاء سے دور رہیں اور ممکن ہو تو نتیجے کی تصدیق کریں۔
قطب نما کیلبریٹ کیسے کریں؟
عام طور پر فون کو ہوا میں انگریزی کے حرف 8 کی شکل میں چند بار گھمانے سے قطب نما کیلبریٹ ہو جاتا ہے۔ یہ عمل کھلی جگہ، دھاتی سطحوں اور مقناطیسی کیس سے دور کر کے کریں تاکہ درستگی بہتر ہو۔
انٹرنیٹ نہ ہو تو قبلہ کیسے معلوم کریں؟
انٹرنیٹ نہ ہونے کی صورت میں دن کے وقت سورج کی سمت، رات کو شمالی نصف کرہ میں قطب تارے سے شمال کا تعین، یا سب سے آسان طور پر قریبی مسجد کے محراب اور صفوں کی سمت دیکھ کر قبلہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اگر سمت میں تھوڑا سا فرق رہ جائے تو کیا نماز ہو جائے گی؟
اگر پوری کوشش اور تحقیق کے بعد غالب گمان سے کسی سمت کو قبلہ سمجھ کر نماز پڑھی جائے اور بعد میں معمولی فرق معلوم ہو تو عام طور پر ایسی نماز کو قبول سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی شرط درست سمت جاننے کی سنجیدہ کوشش ہے۔
سہولت کو مقام (location) کی اجازت کیوں درکار ہوتی ہے؟
سہولت آپ کے مقام اور کعبہ کے مقام کے درمیان زاویہ شمار کر کے قبلہ کی سمت بتاتی ہے، اس لیے اسے آپ کے موجودہ عرض بلد اور طول بلد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقام کی اجازت دیے بغیر نتیجہ درست نہیں ہوگا۔
کیا مختلف شہروں سے قبلہ کی سمت الگ ہوتی ہے؟
جی ہاں، قبلہ کی سمت ہر شہر سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہر مقام کا کعبہ سے زاویہ الگ ہے۔ مثلاً کراچی سے قبلہ تقریباً مغرب کی طرف جبکہ لندن سے جنوب مشرق کی جانب ہوتا ہے۔ یہ اعداد تخمینی ہیں؛ درست سمت اوپر دی گئی سہولت بتاتی ہے۔