The Zakat Calculator

اسلامی وراثت کیلکولیٹر — میراث کی تقسیم اور علمِ فرائض

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

مختصر جواب: اسلامی میراث کی تقسیم علمِ فرائض کے مطابق ہوتی ہے، جس کی بنیاد قرآنِ کریم (سورۃ النساء آیات 11-12 اور 176) پر ہے۔ پہلے میت کا قرض، تجہیز و تکفین اور وصیت (کل ترکے کی زیادہ سے زیادہ ایک تہائی تک) ادا کی جاتی ہے، پھر باقی ماندہ ترکہ اصحابِ فروض کے مقررہ حصوں (½، ¼، ⅛، ⅓، ⅙، ⅔) اور عصبہ کے اصول “للذکر مثل حظ الانثیین” کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔ اوپر دی گئی سہولت آپ کے بتائے ہوئے ترکے اور وارثوں کی بنیاد پر ہر وارث کا حصہ فوری طور پر شمار کر دیتی ہے۔

اس میں اہلِ سنت کے جمہور کے طریقے کے مطابق عام وارث (شوہر/بیوی، بیٹے، بیٹیاں، والد، والدہ) شامل ہیں، بشمول عَول، رَدّ اور زوج کے ساتھ والدین (عُمَریَّتان) کی تعدیلات۔ وہ ترکے جن میں دادا دادی، نانا نانی، پوتے نواسے، یا صرف بہن بھائی وارث ہوں، یا کوئی براہِ راست وارث نہ ہو، پیچیدہ ہو جاتے ہیں — کسی مستند عالم یا شرعی عدالت سے رجوع کریں۔ یہ صرف رہنمائی کے لیے ہے، فتویٰ یا قانونی فیصلہ نہیں۔

اہم نکات

  • اسلامی وراثت کی تقسیم دل چسپی یا رائے سے نہیں بلکہ قرآن کے مقرر کردہ حصوں سے ہوتی ہے۔
  • تقسیم سے پہلے تین حق ادا کیے جاتے ہیں: قرض، تجہیز و تکفین، اور وصیت جو ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
  • چھ مقررہ حصے (فروض) ہیں: ½، ¼، ⅛، ⅓، ⅙ اور ⅔۔
  • عصبہ میں عام اصول ہے کہ مرد کو عورت کے مقابلے میں دُگنا حصہ ملتا ہے (للذکر مثل حظ الانثیین)۔
  • بعض حالات میں حصے ترکے سے بڑھ جائیں تو “عول” اور کم رہ جائیں تو “رد” کا اصول لاگو ہوتا ہے۔
  • پیچیدہ صورتیں (دادا، نانا، حَجب یا مخصوص وارث) کے لیے کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع ضروری ہے۔

علمِ فرائض کیا ہے؟

علمِ فرائض یا علمِ میراث اسلامی فقہ کی وہ شاخ ہے جو میت کے چھوڑے ہوئے مال (ترکے) کی شرعی تقسیم سے بحث کرتی ہے۔ اس علم کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ یہ براہِ راست قرآنِ کریم کے احکام پر مبنی ہے؛ عام معاملات میں تفصیلات اجتہاد پر چھوڑی گئیں، مگر میراث کے حصے قرآن نے خود واضح فرما دیے تاکہ کسی وارث کی حق تلفی نہ ہو۔ سورۃ النساء کی آیات 11 اور 12 میں والدین، اولاد اور میاں بیوی کے حصے بیان ہوئے ہیں، جبکہ آیت 176 (آیتِ کلالہ) میں اُس شخص کی میراث کا ذکر ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔ یہی آیات پورے نظامِ میراث کی بنیاد ہیں۔

مقصد یہ ہے کہ ہر مستحق کو اُس کا مقرر حصہ ملے اور کمزور وارثوں مثلاً بیٹیوں، بیوہ اور والدہ کے حقوق محفوظ رہیں۔

یہ سہولت کیسے کام کرتی ہے؟

اوپر دی گئی سہولت ایک آسان اور تیز رفتار ذریعہ ہے جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی متوقع تقسیم میں ہر وارث کو کتنا حصہ مل سکتا ہے۔ آپ کو صرف کل ترکے کی مالیت درج کرنی ہے اور زندہ وارثوں کی تفصیل منتخب کرنی ہے، مثلاً شوہر یا بیوی، بیٹوں اور بیٹیوں کی تعداد، والد اور والدہ کی موجودگی۔ اس کے بعد سہولت خود بخود مقررہ حصوں کا اطلاق کرتی ہے، عصبہ کا حساب لگاتی ہے، اور ضرورت پڑنے پر عول، رد اور عُمریتان جیسے خصوصی اصولوں کو بھی شامل کرتی ہے۔

نتیجے میں آپ کو ہر وارث کا فیصدی حصہ اور رقم دونوں نظر آتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ یہ سہولت عمومی رہنمائی دیتی ہے؛ اصل ترکے میں جائیداد، قرض اور خاندانی حالات کی بنا پر تفصیل مختلف ہو سکتی ہے۔

تقسیم سے پہلے کے مراحل

میراث تقسیم کرنے سے پہلے ترکے پر عائد چند حقوق ترتیب کے ساتھ ادا کرنا لازم ہیں، اور یہی ترتیب فقہاء کے نزدیک مسلّم ہے:

پہلا: تجہیز و تکفین کا معقول خرچ سب سے پہلے ترکے سے نکالا جاتا ہے۔ دوسرا: میت کے ذمے واجب الادا قرض، خواہ وہ اللہ کے حقوق سے ہو (جیسے ادا نہ کی گئی زکات یا حج) یا بندوں کے حقوق سے۔ تیسرا: وصیت پر عمل، بشرطیکہ وہ کل ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو اور کسی وارث کے حق میں نہ ہو؛ ایک تہائی سے بڑھ جائے تو بقیہ پر عمل تمام ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہے۔ ان مراحل کے بعد جو کچھ باقی بچے، وہی وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

اصحابِ فروض اور مقررہ حصے

اصحابِ فروض وہ وارث ہیں جن کے حصے قرآن نے کسر (فریکشن) کی صورت میں مقرر کر دیے ہیں۔ ان کو سب سے پہلے اُن کا مقرر حصہ دیا جاتا ہے۔ درج ذیل جدول میں چھ بنیادی مقررہ حصے اور اُن کے چند نمایاں مستحقین بیان کیے گئے ہیں:

مقررہ حصہ چند نمایاں مستحقین (عمومی صورت میں)
½ (نصف) شوہر (جب اولاد نہ ہو)؛ اکلوتی بیٹی؛ اکلوتی پوتی
¼ (چوتھائی) شوہر (جب اولاد ہو)؛ بیوی (جب اولاد نہ ہو)
⅛ (آٹھواں) بیوی یا بیویاں (جب اولاد موجود ہو)
⅔ (دو تہائی) دو یا زیادہ بیٹیاں؛ دو یا زیادہ پوتیاں (بیٹے کی غیر موجودگی میں)
⅓ (ایک تہائی) والدہ (بعض صورتوں میں)؛ ماں شریک بھائی بہن (دو یا زیادہ)
⅙ (چھٹا) والد اور والدہ (جب اولاد موجود ہو)؛ دادی؛ اکلوتی پوتی بیٹی کے ساتھ

یہ جدول عمومی اصول بیان کرتا ہے۔ بعض وارثوں کا حصہ دیگر وارثوں کی موجودگی یا غیر موجودگی سے بدل جاتا ہے، اسی لیے ہر صورت کو الگ الگ دیکھنا پڑتا ہے۔

عصبہ اور “للذکر مثل حظ الانثیین”

اصحابِ فروض کو اُن کے مقرر حصے دینے کے بعد جو ترکہ بچ جائے، وہ عصبہ کو ملتا ہے۔ عصبہ وہ وارث ہیں جن کا کوئی مقرر حصہ نہیں ہوتا بلکہ وہ باقی ماندہ مال کے حقدار ہوتے ہیں، جیسے بیٹے اور والد (بعض صورتوں میں)۔ جب مرد اور عورت اکٹھے عصبہ بنیں، مثلاً بیٹے اور بیٹیاں، تو اصول یہ ہے کہ مرد کو عورت کے مقابلے میں دُگنا حصہ ملتا ہے، جسے قرآن نے “للذکر مثل حظ الانثیین” یعنی مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ فرمایا ہے۔

اس کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ مہر اور اہلِ خانہ کا نفقہ بنیادی طور پر مردوں پر عائد ہوتا ہے، جبکہ عورت کا مال اُسی کی ملکیت رہتا ہے۔ اگر میت کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو بیٹیاں عصبہ نہیں بلکہ اصحابِ فروض کے طور پر اپنا مقرر حصہ (ایک کے لیے نصف، دو یا زیادہ کے لیے دو تہائی) لیتی ہیں۔

خصوصی حالات: عول، رد اور عُمریتان

عول: بعض اوقات تمام اصحابِ فروض کے مقررہ حصے جمع کیے جائیں تو وہ پورے ترکے سے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں “عول” کا اصول لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت سب وارثوں کے حصوں میں تناسب کے ساتھ کمی کی جاتی ہے تاکہ تقسیم ممکن ہو سکے۔

رد: اس کے برعکس، اگر مقررہ حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جائے اور کوئی عصبہ موجود نہ ہو، تو بچا ہوا مال (شوہر یا بیوی کے علاوہ) اصحابِ فروض کو اُن کے حصوں کے تناسب سے واپس لوٹا دیا جاتا ہے؛ اسی کو “رد” کہتے ہیں۔

عُمریتان (دو عمری مسئلے): یہ دو مشہور صورتیں ہیں جن میں وارث صرف میاں یا بیوی، والد اور والدہ ہوں۔ ان میں والدہ کو کل ترکے کے بجائے شوہر یا بیوی کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ماندہ کا ایک تہائی دیا جاتا ہے۔ اوپر دی گئی سہولت ان تینوں اصولوں کو خود بخود شامل کر لیتی ہے۔

حَجب مختصراً

حَجب کا مطلب ہے کسی وارث کا قریب تر وارث کی موجودگی کی وجہ سے حصے سے محروم ہو جانا یا اُس کا حصہ کم ہو جانا۔ مثلاً پوتا میت کے بیٹے کی موجودگی میں محروم ہو جاتا ہے، اور بھائی بہن والد یا بیٹے کی موجودگی میں؛ اسی طرح والدہ کا حصہ اولاد یا متعدد بہن بھائیوں کی موجودگی میں ⅓ سے ⅙ رہ جاتا ہے۔ یہ مسائل باریک ہوتے ہیں، اس لیے ان میں اہلِ علم سے رجوع بہتر ہے۔

وصیت اور زکات سے تعلق

میراث کا نظام وصیت اور زکات دونوں سے جڑا ہے۔ وصیت موت کے بعد نافذ ہوتی ہے، مگر یہ ایک تہائی ترکے تک محدود ہے اور کسی وارث کے حق میں (اُن کی رضامندی کے بغیر) نہیں کی جا سکتی۔ زکات کا تعلق مال کی پاکیزگی سے ہے؛ اگر میت کے ذمے زکات واجب الادا رہ گئی ہو تو اسے قرض کی طرح ترکے سے ادا کرنا ضروری ہے۔ اپنی زکات کا حساب لگانے کے لیے آپ ہماری زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کر سکتے ہیں، اور اہم اسلامی تاریخوں کے لیے آج کی اسلامی تاریخ دیکھ سکتے ہیں۔

عمومی سوالات

ذیل میں چند اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے مختصر جواب دیے گئے ہیں تاکہ بنیادی الجھنیں دور ہو سکیں۔ تفصیلی یا مخصوص خاندانی صورتوں کے لیے ہمیشہ کسی مستند مفتی سے رابطہ کریں۔

نوٹ: یہ صفحہ اور اوپر دی گئی سہولت صرف عمومی تعلیمی رہنمائی کے لیے ہیں۔ اسلامی میراث کے مسائل خاندانی حالات کے مطابق پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہ رہنمائی ہے، فتویٰ یا عدالتی فیصلہ نہیں؛ کسی حتمی تقسیم سے پہلے کسی مستند عالم، مفتی یا شرعی ادارے سے رجوع ضرور کریں۔

Frequently asked questions

اسلامی میراث کی تقسیم کی بنیاد کیا ہے؟

اس کی بنیاد قرآنِ کریم ہے، بالخصوص سورۃ النساء کی آیات 11-12 اور 176، جن میں والدین، اولاد اور میاں بیوی سمیت مختلف وارثوں کے حصے واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

کیا وصیت پورے مال میں کی جا سکتی ہے؟

نہیں۔ وصیت زیادہ سے زیادہ کل ترکے کے ایک تہائی تک محدود ہے، اور کسی وارث کے حق میں دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ وارث کا حصہ پہلے ہی مقرر ہے۔

تقسیم سے پہلے کن حقوق کی ادائیگی لازم ہے؟

پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات، پھر میت کے قرض، اور اس کے بعد وصیت (ایک تہائی تک) ادا کی جاتی ہے۔ ان کے بعد بچا ہوا ترکہ وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

چھ مقررہ حصے (فروض) کون سے ہیں؟

یہ چھ کسری حصے ہیں: نصف (½)، چوتھائی (¼)، آٹھواں (⅛)، ایک تہائی (⅓)، چھٹا (⅙) اور دو تہائی (⅔)۔ ہر حصہ مخصوص وارثوں کے لیے مقرر ہے۔

مرد کو عورت سے دُگنا حصہ کیوں ملتا ہے؟

عصبہ میں اصول ہے 'للذکر مثل حظ الانثیین'۔ اس کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ مہر اور خاندان کے نفقے کی مالی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد پر ہوتی ہے، جبکہ عورت کا مال اُسی کی ملکیت رہتا ہے۔

عول اور رد میں کیا فرق ہے؟

عول اُس وقت ہوتا ہے جب مقررہ حصے ترکے سے بڑھ جائیں تو سب کے حصوں میں تناسب سے کمی کی جاتی ہے۔ رد اُس وقت ہوتا ہے جب حصے دینے کے بعد مال بچ جائے اور کوئی عصبہ نہ ہو تو بچا مال اصحابِ فروض کو تناسب سے لوٹا دیا جاتا ہے۔

کیا یہ سہولت ہر صورت میں کافی ہے؟

یہ سہولت عام صورتوں میں تخمینے کے لیے مفید ہے، لیکن دادا، نانا، حَجب یا دیگر پیچیدہ صورتوں میں لازمی طور پر کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کریں؛ یہ رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔

Contact: contact@thezakatcalculator.com