The Zakat Calculator

سونے کی زکات کیسے نکالیں؟

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

—

🪙 اپنا سونا اس کی خالصیت (قیراط) کے مطابق درج کریں

اپنے پاس موجود ہر خالصیت کا وزن اوپر منتخب کردہ اکائی میں درج کریں۔ ہم خالص سونے کی مقدار کی قیمت موجودہ 24k نرخ پر لگاتے ہیں۔

سونے کی زکوٰۃ اس کی موجودہ بازاری قیمت کا 2.5% ہے، بشرطیکہ آپ کا سونا (تنہا یا دیگر مال کے ساتھ) نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال (حول) گزر جائے۔ ذاتی استعمال کے زیورات کے بارے میں علما کا اختلاف ہے — حنفی اسے شامل کرتے ہیں جبکہ کئی دیگر اسے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ یہ صرف رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔

مختصر جواب: سونے کا نصاب 87.48 گرام (ساڑھے سات تولہ) ہے۔ اگر آپ کے پاس اتنا یا زیادہ سونا ہو اور اس پر قمری سال گزر جائے تو اس کی موجودہ بازاری قیمت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے۔ جمہور کے نزدیک پہننے والے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔

اہم نکات

  • سونے کا نصاب 87.48 گرام ≈ ساڑھے سات تولہ۔
  • زکوٰۃ سونے کی موجودہ بازاری قیمت پر لگتی ہے، خریداری کی قیمت پر نہیں۔
  • شرح وہی ڈھائی فیصد۔
  • جمہور علماء کے نزدیک زیب و زینت کے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے۔
  • سونا اور نقدی ساتھ ہوں تو کل مالیت پر حساب ہوگا۔
  • زکوٰۃ سونا بیچ کر یا اس کی قیمت کے برابر نقدی سے دونوں طرح ادا ہو سکتی ہے۔

سونے پر زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے؟

سونے پر زکوٰۃ اُس وقت فرض ہوتی ہے جب اس کی مقدار نصاب یعنی 87.48 گرام (ساڑھے سات تولہ) کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو اور وہ اس نصاب سے کم ہو، مثلاً پانچ تولہ، اور کوئی اور مال نہ ہو تو زکوٰۃ فرض نہیں۔ لیکن اگر ساتھ نقدی یا چاندی بھی ہو تو سب کو ملا کر دیکھا جاتا ہے۔

زیورات کی زکوٰۃ کا حکم

یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس میں علماء کے درمیان فرق ہے۔ جمہور علماء بشمول احناف کے نزدیک عورت کے پہننے والے سونے چاندی کے زیور پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچے اور سال گزر جائے۔ بعض دیگر علماء ذاتی استعمال کے زیور کو مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ چونکہ اردو حلقے میں عموماً حنفی مسلک کی پیروی ہوتی ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ زیور پر بھی زکوٰۃ نکالی جائے۔ اپنی صورتِ حال کے مطابق کسی مستند عالم سے تصدیق کر لیں۔

سونے کی زکوٰۃ کا حساب کیسے کریں؟

حساب کے تین سادہ مرحلے ہیں: پہلے سونے کا کل وزن معلوم کریں، پھر اس دن کی فی گرام یا فی تولہ بازاری قیمت معلوم کریں، اور آخر میں کل مالیت پر ڈھائی فیصد نکالیں۔ اگر سونا خالص نہ ہو (مثلاً 22 یا 21 قیراط) تو زیور کی حقیقی سونے کی مقدار کے مطابق قیمت لگائی جائے گی۔

تولہ اور گرام کا جدول

سونا (تولہ) تقریباً گرام نصاب کو پہنچتا ہے؟
5 تولہ ≈ 58.3 گرام نہیں (اکیلے سونے کی صورت میں)
7.5 تولہ ≈ 87.48 گرام ہاں (عین نصاب)
10 تولہ ≈ 116.6 گرام ہاں

عملی مثال

فرض کریں آپ کے پاس 10 تولہ سونا ہے اور اس دن سونے کی قیمت 2,00,000 روپے فی تولہ ہے (قیمت محض مثال کے لیے فرض کی گئی ہے)۔ کل مالیت = 10 × 2,00,000 = 20,00,000 روپے۔ چونکہ یہ نصاب سے زیادہ ہے اور سال گزر چکا ہے، زکوٰۃ فرض ہے۔ زکوٰۃ = 20,00,000 × 0.025 = 50,000 روپے۔ اصل حساب کے لیے موجودہ بھاؤ درج کر کے زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔

سونا اور نقدی ساتھ ہوں تو؟

اگر سونے کے ساتھ نقدی، بینک بیلنس یا مالِ تجارت بھی ہو تو سب کی کل مالیت جوڑ کر، قرض منہا کر کے، خالص مال پر ڈھائی فیصد نکالا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں نصاب کا تعین عام طور پر چاندی کے نصاب سے کیا جاتا ہے تاکہ کم مال والے بھی زکوٰۃ کے فائدے میں شامل ہوں۔

زکوٰۃ نقدی سے دیں یا سونا بیچ کر؟

سونے کی زکوٰۃ ادا کرنے کے دو طریقے ہیں: یا تو اتنا سونا بیچ کر رقم دے دی جائے، یا پھر اپنے پاس موجود نقدی سے سونے کی قیمت کے برابر ڈھائی فیصد رقم نکال دی جائے۔ دونوں طریقے درست ہیں؛ عموماً لوگ نقدی سے ادا کرنا آسان سمجھتے ہیں تاکہ زیور محفوظ رہے۔

مختلف قیراط کے زیور کا حساب

بازار میں زیور عموماً 24، 22، 21 یا 18 قیراط کا ہوتا ہے۔ 24 قیراط خالص سونا ہے، جبکہ 22 قیراط میں تقریباً 91.6 فیصد اور 18 قیراط میں تقریباً 75 فیصد خالص سونا ہوتا ہے، باقی دوسری دھاتیں ملی ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ صرف حقیقی سونے کی مقدار پر لگتی ہے، اس لیے اگر آپ کے پاس 22 قیراط زیور ہے تو اس کی مالیت اسی قیراط کے موجودہ فی تولہ بھاؤ پر لگائی جائے گی۔ اگر مختلف قیراط کے زیورات ملے جلے ہوں تو ہر قسم کی الگ الگ مالیت نکال کر کل جوڑ لیں، پھر اس مجموعے پر ڈھائی فیصد نکالیں۔ جوہری سے موجودہ ریٹ معلوم کرنا اس میں مددگار ہوتا ہے۔

خواتین کے زیور سے متعلق عملی مشورہ

بہت سے گھرانوں میں خواتین کے پاس جہیز یا تحائف کی صورت میں کافی زیور ہوتا ہے جو نصاب سے کہیں زیادہ بن جاتا ہے۔ چونکہ جمہور کے نزدیک اس پر زکوٰۃ واجب ہے، اس لیے خاندان کو مل کر ہر سال اس کا حساب رکھنا چاہیے۔ اگر خاتون کے پاس ادائیگی کے لیے الگ رقم نہ ہو تو شوہر یا گھر کا سربراہ اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کسی نہ کسی صورت وقت پر ادا ہو جائے اور زیور کو بہانہ بنا کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

سونے کی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل گولڈ

آج کل لوگ جسمانی زیور کے علاوہ سونے کے سکے، بسکٹ، یا ڈیجیٹل گولڈ کی صورت میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ سب سونے ہی کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان کی موجودہ مالیت پر بھی وہی ڈھائی فیصد زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے، بشرطیکہ کل مال نصاب کو پہنچے اور سال گزر جائے۔ جو سونا سرمایہ کاری یا تجارت کی نیت سے رکھا جائے، اس پر تو بالاتفاق زکوٰۃ ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رکھے سونے کی مقدار اور موجودہ قیمت اکاؤنٹ سے باآسانی معلوم ہو جاتی ہے، جسے حساب میں شامل کر لیں۔ رمضان کے موقع پر ادا کیے جانے والے فطرانہ کو سونے کی سالانہ زکوٰۃ سے الگ سمجھیں، کیونکہ دونوں جدا عبادات ہیں۔

عام غلطیاں

سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ زیور کو زکوٰۃ سے باہر سمجھ لیتے ہیں۔ دوسری غلطی خریداری کی پرانی قیمت پر حساب لگانا ہے، جبکہ زکوٰۃ موجودہ بازاری قیمت پر ہوتی ہے۔ تیسری غلطی مختلف زیورات کی قیراط (خالص پن) کو نظرانداز کرنا ہے۔ درست حساب کے لیے پورا طریقہ زکوٰۃ کیسے نکالیں میں دیکھیں، حساب کے لیے زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں، اور مستحقین کی تفصیل زکوٰۃ کن کو دی جائے میں موجود ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

Frequently asked questions

سونے کی زکات کا نصاب کتنا ہے؟

سونے کا نصاب 87.48 گرام یعنی تقریباً ساڑھے سات تولہ ہے۔ اتنا یا زیادہ سونا ہونے اور اس پر سال گزرنے کی صورت میں زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔

کیا پہننے والے زیورات پر بھی زکات ہے؟

جمہور علماء بشمول احناف کے نزدیک استعمال کے زیور پر بھی زکوٰۃ ہے اگر وہ نصاب کو پہنچے۔ بعض علماء اسے مستثنیٰ سمجھتے ہیں؛ احتیاط زکوٰۃ نکالنے میں ہے۔

سونے کی قیمت خریداری کی لگائیں یا موجودہ؟

زکوٰۃ ہمیشہ ادائیگی والے دن کی موجودہ بازاری قیمت پر لگتی ہے، نہ کہ خریداری کے پرانے بھاؤ پر۔

تولہ سونا زکات کیسے نکالیں؟

سونے کا کل وزن تولہ یا گرام میں معلوم کریں، اسے موجودہ فی تولہ قیمت سے ضرب دیں، پھر کل مالیت کا ڈھائی فیصد نکال لیں۔

کم قیراط والے زیور کی زکات کیسے لگے؟

22 یا 21 قیراط زیور میں خالص سونے کی مقدار کم ہوتی ہے، اس لیے زیور کی حقیقی سونے کی مالیت کے مطابق قیمت لگائی جاتی ہے۔

زکات سونا بیچ کر دیں یا نقدی سے؟

دونوں درست ہیں۔ یا تو ڈھائی فیصد کے برابر سونا بیچ کر دیں یا اپنی نقدی سے اتنی رقم ادا کر دیں؛ عموماً نقدی سے ادائیگی آسان سمجھی جاتی ہے۔

اگر سونا نصاب سے کم ہو مگر نقدی بھی ہو تو؟

پھر سونے اور نقدی سمیت سب اثاثوں کی کل مالیت جوڑی جاتی ہے اور چاندی کے نصاب سے موازنہ کر کے مجموعی مال پر زکوٰۃ نکالی جاتی ہے۔