The Zakat Calculator

زکوٰۃ کن کو دی جا سکتی ہے؟ آٹھ مصارف

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

مختصر جواب: قرآن (سورہ توبہ 9:60) میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں: فقراء، مساکین، عاملینِ زکوٰۃ، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض، فی سبیل اللہ، اور مسافر۔ زکوٰۃ انہی مدّات میں مستحق مسلمانوں کو دی جاتی ہے۔

اہم نکات

  • مصارف کی بنیاد سورہ توبہ کی آیت 60 ہے۔
  • کل آٹھ مصارف مقرر ہیں۔
  • سب سے نمایاں مستحق فقراء اور مساکین ہیں۔
  • زکوٰۃ کا مالک بنا کر دینا (تملیک) شرط سمجھا جاتا ہے۔
  • اپنے والدین، اولاد اور بیوی کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی۔
  • بنو ہاشم (سادات) کو زکوٰۃ دینے میں فقہاء کی تفصیل ہے۔

زکوٰۃ کے مستحق کون ہیں؟

زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے، اس کا جواب قرآنِ کریم نے خود دے دیا ہے۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر 60 میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف واضح طور پر بیان فرمائے ہیں۔ ان ہی مدّات میں مستحق افراد کو زکوٰۃ دی جاتی ہے۔ ذیل میں ہر مصرف کی مختصر وضاحت ہے۔

آٹھ مصارفِ زکوٰۃ

نمبر مصرف مختصر وضاحت
1 فقراء نہایت ضرورت مند جن کے پاس بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں
2 مساکین محتاج جن کی آمدنی ضروریات سے کم ہو
3 عاملینِ زکوٰۃ وہ لوگ جو زکوٰۃ جمع اور تقسیم کرنے پر مامور ہوں
4 مؤلفۃ القلوب وہ افراد جن کی تالیفِ قلب مقصود ہو
5 رقاب غلاموں اور قیدیوں کی آزادی میں مدد
6 غارمین وہ مقروض جو قرض ادا کرنے سے قاصر ہوں
7 فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں دین کی خدمت کے کام
8 ابن السبیل مسافر جو سفر میں تنگ دست ہو جائے

فقراء اور مساکین

یہ دونوں سب سے نمایاں مستحقین ہیں۔ فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو یا نہایت کم ہو، اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات سے کم پڑ جائے۔ عملاً آج زیادہ تر زکوٰۃ انہی دو مدّات میں خرچ ہوتی ہے، کیونکہ معاشرے میں ضرورت مند اور محتاج افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ فقہاء نے فقیر اور مسکین کی حد بندی میں تھوڑا فرق بیان کیا ہے، مگر عام فہم بات یہ ہے کہ دونوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوں اور صاحبِ نصاب نہ ہوں۔ ایسے افراد کو زکوٰۃ دینا سب سے زیادہ باعثِ اجر اور معاشرتی فائدے کا کام ہے۔

عاملین اور مؤلفۃ القلوب

عاملینِ زکوٰۃ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی اسلامی نظام یا ادارے نے زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر کیا ہو؛ ان کی محنت کا معاوضہ زکوٰۃ سے دیا جا سکتا ہے۔ مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ افراد ہیں جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا یا ان کی دلجوئی مقصود ہو۔ اس مصرف کے دائرے میں فقہاء کی تفصیلی بحث ہے۔

غلاموں کی آزادی اور مقروض

پانچواں مصرف رقاب ہے، یعنی غلاموں اور بندھنوں میں جکڑے لوگوں کی آزادی میں مدد۔ چھٹا مصرف غارمین ہے، یعنی وہ لوگ جو جائز ضرورت کے لیے مقروض ہو گئے اور اب قرض چکانے سے قاصر ہیں؛ ان کا قرض اتارنے میں زکوٰۃ سے مدد کی جا سکتی ہے۔

فی سبیل اللہ اور مسافر

ساتواں مصرف فی سبیل اللہ ہے، یعنی اللہ کی راہ میں دین کی خدمت اور بھلائی کے کام۔ آٹھواں مصرف ابن السبیل ہے، یعنی وہ مسافر جو سفر کے دوران تنگ دست ہو جائے، خواہ اپنے وطن میں مال دار ہی کیوں نہ ہو؛ اسے سفر کی ضرورت کے مطابق زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

زکوٰۃ کس کو نہیں دی جا سکتی؟

کچھ لوگوں کو زکوٰۃ دینا درست نہیں۔ اپنے اصول و فروع یعنی والدین، دادا دادی، نانا نانی، بیٹے بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی، کیونکہ ان کا نفقہ ویسے ہی واجب ہو سکتا ہے۔ شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوٰۃ دینے میں بھی تفصیل ہے۔ اسی طرح مالدار شخص اور بنو ہاشم (سادات) کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں فقہاء کی مخصوص آراء ہیں۔ ان صورتوں میں اپنے مذہب کے مطابق کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

تملیک کی شرط

زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے عام طور پر تملیک ضروری سمجھی جاتی ہے، یعنی رقم یا سامان مستحق کو مالک بنا کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔ اسی لیے بعض علماء کے نزدیک محض کسی رفاہی منصوبے پر خرچ کرنا، جس میں کسی فرد کو مالک نہ بنایا جائے، زکوٰۃ کے لیے کافی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے، لہٰذا تفصیل عالم سے پوچھ لیں۔

زکوٰۃ دینے میں ترجیحات

اگرچہ زکوٰۃ آٹھوں مصارف میں دی جا سکتی ہے، مگر عملی طور پر بہتر یہ ہے کہ پہلے اپنے قریبی مستحق رشتہ داروں کا خیال رکھا جائے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں مگر آپ کے نفقے میں شامل نہ ہوں، جیسے مستحق بھائی، بہن، بھتیجے یا چچا۔ ان کو زکوٰۃ دینے میں دوہرا اجر ہے: صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی۔ اس کے بعد اپنے محلے، شہر اور پھر دیگر علاقوں کے ضرورت مندوں کا نمبر آتا ہے۔ اسی طرح یتیم، بیوہ اور مستحق طلبہ کی تعلیم و کفالت میں زکوٰۃ خرچ کرنا نہایت مفید ہے، بشرطیکہ تملیک کی شرط پوری ہو۔

زکوٰۃ صحیح جگہ پہنچانے کی احتیاط

زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لینا ضروری ہے کہ لینے والا واقعی مستحق ہے۔ اگر آپ خود تحقیق نہیں کر سکتے تو کسی معتبر اور دیانت دار ادارے کے ذریعے دیں جو زکوٰۃ کو اس کے صحیح مصارف میں خرچ کرتا ہو۔ کوشش کریں کہ ادارہ زکوٰۃ اور عام عطیات کا حساب الگ رکھتا ہو، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف مخصوص ہیں۔ اگر بعد میں معلوم ہو کہ آپ نے نیک نیتی سے کسی ایسے شخص کو دے دیا جو دراصل مستحق نہ تھا، تو جمہور کے نزدیک آپ کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، بشرطیکہ آپ نے حسبِ استطاعت جانچ پڑتال کی ہو۔

عملی رہنمائی

زکوٰۃ کی رقم کا حساب لگانے کے لیے زکوٰۃ کیلکولیٹر اور طریقہ سمجھنے کے لیے زکوٰۃ کیسے نکالیں دیکھیں۔ نصاب کی وضاحت نصابِ زکوٰۃ میں، سونے کا حساب سونے کی زکات میں، اور رمضان کے فطرانے کی تفصیل فطرانہ کے صفحے پر موجود ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

Frequently asked questions

زکوٰۃ کے کتنے مصارف ہیں؟

قرآنِ کریم (سورہ توبہ آیت 60) میں زکوٰۃ کے کل آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں، جن میں فقراء اور مساکین سب سے نمایاں ہیں۔

زکوٰۃ کے مستحق کون لوگ ہیں؟

فقراء، مساکین، عاملینِ زکوٰۃ، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض، فی سبیل اللہ اور مسافر۔ انہی مدّات میں مستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے۔

کیا اپنے والدین یا اولاد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

نہیں، اپنے اصول و فروع یعنی والدین، دادا دادی، اولاد اور پوتے پوتیوں کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی، کیونکہ ان کا نفقہ اکثر ویسے ہی واجب ہوتا ہے۔

کیا مالدار شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

نہیں، جو شخص خود نصاب کے برابر مال کا مالک ہو، عام طور پر اسے زکوٰۃ دینا درست نہیں۔ زکوٰۃ ضرورت مند اور مستحق افراد کے لیے ہے۔

کیا مقروض کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جی، جو شخص جائز ضرورت کے لیے مقروض ہو اور قرض چکانے سے قاصر ہو (غارمین)، اسے زکوٰۃ سے مدد دی جا سکتی ہے۔

کیا کسی رفاہی منصوبے پر زکوٰۃ خرچ ہو سکتی ہے؟

بہت سے علماء تملیک یعنی مستحق کو مالک بنانے کو شرط سمجھتے ہیں، اس لیے وہ منصوبہ جس میں کسی فرد کو مالک نہ بنایا جائے، اختلافی ہے۔ تفصیل مستند عالم سے پوچھیں۔

کیا زکوٰۃ غیر مسلم کو دی جا سکتی ہے؟

عام طور پر واجب زکوٰۃ مستحق مسلمانوں کو دی جاتی ہے۔ غیر مسلموں کی مدد نفلی صدقات سے کی جا سکتی ہے؛ تفصیلی حکم کے لیے عالم سے رجوع کریں۔