The Zakat Calculator

نصابِ زکوٰۃ (سونا و چاندی)

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

سونے کا نصاب (87.48 گرام)$12,055.14
چاندی کا نصاب (612.36 گرام)$1,268.27
سونا / گرام$137.80
چاندی / گرام$2.07

لائیو اسپاٹ قیمتیں۔ اکثر علماء چاندی کے نصاب کی سفارش کرتے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ مستحقین کو فائدہ پہنچتا ہے۔ · 27 Sep 2026

مختصر جواب: نصاب وہ کم از کم مالیت ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ سونے کا نصاب 87.48 گرام (ساڑھے سات تولہ) اور چاندی کا نصاب 612.36 گرام (ساڑھے باون تولہ) ہے۔ نقدی اور ملے جلے اثاثوں پر عام طور پر چاندی کی مالیت کو معیار بنایا جاتا ہے۔

اہم نکات

  • سونے کا نصاب 87.48 گرام ≈ ساڑھے سات تولہ۔
  • چاندی کا نصاب 612.36 گرام ≈ ساڑھے باون تولہ۔
  • ایک تولہ ≈ 11.66 گرام۔
  • نصاب سے کم مال پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
  • ملے جلے اثاثوں (نقدی + سونا + مالِ تجارت) پر چاندی کا نصاب معیار بنانا مستحب ہے۔
  • نصاب کے بعد مال پر ایک قمری سال گزرنا بھی شرط ہے۔

نصاب کا مطلب کیا ہے؟

لفظ نصاب سے مراد وہ مقررہ حد ہے جس تک مال پہنچ جائے تو زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کے پاس اس حد سے کم مال ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں۔ یہ حد شریعت نے سونے اور چاندی کے وزن کی صورت میں مقرر کی ہے، اور آج کے دور میں نقدی و دیگر اثاثوں کی زکوٰۃ اسی سونے یا چاندی کی مالیت سے ناپی جاتی ہے۔

سونے اور چاندی کا نصاب

احادیث میں چاندی کا نصاب دو سو درہم اور سونے کا نصاب بیس دینار بیان ہوا ہے، جسے علماء نے وزن میں یوں بیان کیا: سونا 87.48 گرام اور چاندی 612.36 گرام۔ برصغیر میں عام طور پر اسے تولہ میں یاد رکھا جاتا ہے، یعنی سونے کے لیے ساڑھے سات تولہ اور چاندی کے لیے ساڑھے باون تولہ۔ چونکہ ایک تولہ تقریباً 11.66 گرام کا ہوتا ہے، اس لیے گرام اور تولہ دونوں پیمانے آپس میں میل کھاتے ہیں۔

تولہ اور گرام کا تعلق

دھات نصاب (گرام) نصاب (تولہ، تقریباً) شرح
سونا 87.48 گرام 7.5 تولہ ڈھائی فیصد
چاندی 612.36 گرام 52.5 تولہ ڈھائی فیصد

حساب یوں ہے: 87.48 ÷ 11.66 ≈ 7.5 تولہ، اور 612.36 ÷ 11.66 ≈ 52.5 تولہ۔ اگر آپ کے پاس وزن گرام میں ہو تو 11.66 پر تقسیم کر کے تولہ نکالا جا سکتا ہے۔

نقدی اور ملے جلے اثاثوں کا نصاب

آج کل زیادہ تر لوگوں کے پاس صرف سونا یا صرف چاندی نہیں، بلکہ نقدی، بینک بیلنس، مالِ تجارت اور تھوڑا بہت زیور ملا جلا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں نصاب کا تعین چاندی کی مالیت سے کرنا مستحب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چاندی کا نصاب مالیت میں کم بنتا ہے اور اس طرح زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں، جس کا فائدہ مستحقین کو پہنچتا ہے۔ عملی طریقہ یہ ہے کہ چاندی کے 612.36 گرام کی موجودہ بازاری قیمت معلوم کریں اور اسی رقم کو نصاب مان لیں۔

عملی مثال

فرض کریں چاندی کی قیمت 2,500 روپے فی گرام ہے۔ تو چاندی کے نصاب کی مالیت = 612.36 × 2,500 = 15,30,900 روپے کے قریب۔ (یہ محض ایک فرضی قیمت پر مثال ہے۔) اب اگر کسی کے پاس کل خالص مال اس رقم کے برابر یا زیادہ ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔ رقم نکالنے کے لیے زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔

سونے کا نصاب کب بنیاد بنے؟

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو اور کوئی نقدی یا چاندی نہ ہو تو پھر سونے ہی کا نصاب (87.48 گرام) دیکھا جائے گا۔ جس کے پاس اس سے کم سونا ہو، مثلاً پانچ تولہ، اور اس کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ لیکن اگر تھوڑی نقدی بھی ساتھ ہو تو معاملہ ملے جلے اثاثوں کا بن جاتا ہے اور چاندی کے نصاب سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

نصاب کے بعد اگلا مرحلہ: حول

نصاب کو پہنچنا پہلی شرط ہے؛ دوسری شرط یہ ہے کہ اس مال پر ایک قمری سال گزرے۔ اگر آج آپ نصاب کے مالک بنے تو اگلے قمری سال اسی تاریخ کو زکوٰۃ واجب ہوگی، بشرطیکہ اُس دن بھی نصاب موجود ہو۔ اس عمل کی تفصیل زکوٰۃ کیسے نکالیں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

نصاب اور موجودہ قیمتوں کا اثر

چونکہ نقدی کا نصاب سونے یا چاندی کی مالیت سے ناپا جاتا ہے، اس لیے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر براہِ راست نصاب کی رقم پر پڑتا ہے۔ جب چاندی کی قیمت بڑھتی ہے تو نصاب کی روپوں میں مالیت بھی بڑھ جاتی ہے، اور جب گھٹتی ہے تو نصاب کم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہر سال زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت اُسی دن کی تازہ قیمت دیکھنا ضروری ہے۔ پرانی قیمت پر انحصار کرنے سے یا تو زکوٰۃ زیادہ نکل آتی ہے یا کم رہ جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ادائیگی والے دن معتبر ذریعے سے سونے چاندی کا موجودہ بھاؤ معلوم کر کے حساب لگایا جائے۔

سونے اور چاندی کے نصاب میں فرق کیوں؟

ابتدائے اسلام میں سونے اور چاندی کے نصاب کی مالیت تقریباً برابر تھی، مگر آج دونوں دھاتوں کی قیمتوں میں بڑا فرق آ چکا ہے۔ اسی لیے سونے کا نصاب مالیت میں کہیں زیادہ اور چاندی کا نصاب نسبتاً کم بنتا ہے۔ اسی بنیاد پر جمہور علماء ملے جلے اثاثوں پر چاندی کے نصاب کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آئیں اور غریبوں کو زیادہ فائدہ پہنچے۔ یہ ترجیح فقراء کے حق میں احتیاط پر مبنی ہے۔ بعض لوگ آسانی کے لیے صرف سونے کا نصاب دیکھتے ہیں، مگر محتاط اور افضل راستہ چاندی کے نصاب کو معیار بنانا ہے۔

نصاب سے متعلق چند غلط فہمیاں

ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نصاب کوئی سالانہ ٹیکس کی حد ہے؛ حقیقت میں یہ ایک شرعی معیار ہے جو زکوٰۃ کی فرضیت کا تعین کرتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ کہ صرف سونے یا صرف نقدی کو دیکھا جائے؛ درست طریقہ یہ ہے کہ تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے جوڑ کر نصاب سے موازنہ کیا جائے۔ تیسری غلط فہمی یہ کہ نصاب کو پہنچتے ہی زکوٰۃ فوراً واجب ہو جاتی ہے، حالانکہ سال گزرنا بھی شرط ہے۔

عام سوالات کا خلاصہ

یاد رکھیں کہ نصاب کوئی سالانہ ٹیکس کی حد نہیں بلکہ شرعی معیار ہے۔ سونے کی زکوٰۃ کا مکمل طریقہ سونے کی زکات میں ہے، زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ زکوٰۃ کیسے نکالیں میں، حساب کے لیے زکوٰۃ کیلکولیٹر، اور زکوٰۃ کن مستحقین کو دی جائے یہ زکوٰۃ کن کو دی جائے میں بیان ہوا ہے۔ رمضان کے فطرانے کے لیے فطرانہ کا صفحہ دیکھیں۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

Frequently asked questions

نصاب زکات کی تعریف کیا ہے؟

نصاب وہ کم از کم مالیت ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ اس سے کم مال والے پر زکوٰۃ لازم نہیں۔ یہ حد سونے یا چاندی کے مقررہ وزن سے ناپی جاتی ہے۔

سونے کا نصاب کتنا ہے؟

سونے کا نصاب 87.48 گرام ہے، جو تقریباً ساڑھے سات تولہ کے برابر ہے۔ صرف سونے کی صورت میں یہی معیار دیکھا جاتا ہے۔

چاندی کا نصاب کتنا ہے؟

چاندی کا نصاب 612.36 گرام ہے، یعنی تقریباً ساڑھے باون تولہ۔ نقدی اور ملے جلے اثاثوں پر عام طور پر یہی نصاب معیار بنایا جاتا ہے۔

ایک تولہ کتنے گرام کا ہوتا ہے؟

ایک تولہ تقریباً 11.66 گرام کا ہوتا ہے۔ اسی لیے سونے کا نصاب تقریباً ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ بنتا ہے۔

نقدی پر کون سا نصاب لگے، سونے کا یا چاندی کا؟

جب نقدی اور مختلف اثاثے ملے جلے ہوں تو جمہور کے نزدیک چاندی کا نصاب معیار بنانا مستحب ہے، کیونکہ اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ ادا کر کے مستحقین کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

نصاب کی مالیت روپوں میں کیسے نکالیں؟

چاندی کے 612.36 گرام یا سونے کے 87.48 گرام کو موجودہ بازاری قیمت سے ضرب دیں۔ نتیجہ آپ کے نصاب کی روپوں میں مالیت ہوگی۔

کیا نصاب کو پہنچتے ہی فوراً زکوٰۃ دینی ہوتی ہے؟

نہیں۔ نصاب کو پہنچنے کے بعد اس مال پر ایک قمری سال گزرنا ضروری ہے۔ سال مکمل ہونے پر اگر نصاب باقی ہو تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔