The Zakat Calculator

فطرانہ 2026: مقدار اور وقت

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

کل فطرانہ$10.00

فطرانہ فی فرد ایک صاع (تقریباً 2.5–3 کلو) بنیادی غذا یا اس کی نقد مالیت ہے، جو عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ نقد رقم ہر سال مقامی طور پر مقرر ہوتی ہے — اپنی مقامی مسجد یا زکات ادارے سے معلوم کریں۔ صرف رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔

مختصر جواب: فطرانہ (صدقۃ الفطر) ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر عید الفطر سے پہلے واجب ہوتا ہے۔ حنفی مسلک میں یہ فی فرد نصف صاع گندم (تقریباً پونے دو کلو) یا اس کی موجودہ قیمت ہے۔ افضل یہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے ادا کر دیا جائے۔

اہم نکات

  • فطرانہ رمضان کے اختتام پر، عید سے پہلے واجب ہوتا ہے۔
  • گھر کے سربراہ پر اپنی اور زیرِ کفالت افراد کی طرف سے ادائیگی لازم ہے۔
  • حنفی مقدار: فی فرد نصف صاع گندم (تقریباً پونے دو کلو) یا اس کی قیمت۔
  • کھجور، جو یا کشمش سے ادا ہو تو ایک صاع (تقریباً ساڑھے تین کلو)۔
  • نقد رقم میں قیمت ہر سال اور علاقے کے مطابق بدلتی ہے۔
  • افضل وقت عید کی نماز سے پہلے ادائیگی ہے۔

فطرانہ کیا ہے؟

فطرانہ، جسے صدقۃ الفطر بھی کہتے ہیں، رمضان کے اختتام پر ادا کیا جانے والا واجب صدقہ ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ روزے دار کی کوتاہیوں کی تلافی ہو اور عید کے دن غریب مسلمان بھی خوشی میں شریک ہو سکیں۔ یہ سالانہ زکوٰۃ سے الگ ایک عبادت ہے؛ زکوٰۃ مال پر اور فطرانہ ہر فرد پر واجب ہوتا ہے۔ احادیث میں اسے روزوں کی طہارت اور غریبوں کے لیے کھانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، تاکہ عید کے دن کوئی محتاج مانگنے پر مجبور نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فطرانہ عید سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ اصل مقصد عید کے دن غریب کی مدد اور اس کی خوشی میں شرکت ہے۔

فطرانہ کس پر واجب ہے؟

فطرانہ ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو عید کی صبح اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال رکھتا ہو کہ وہ نصاب کے برابر ہو۔ گھر کا سربراہ اپنی طرف سے اور اپنے زیرِ کفالت افراد (بیوی، بچوں) کی طرف سے بھی ادا کرتا ہے۔ نومولود بچے کی طرف سے بھی ادا کرنا مستحب ہے اگر وہ عید سے پہلے پیدا ہو جائے۔

فطرانہ کی مقدار

احادیث میں فطرانہ ایک صاع کھجور، جو، کشمش یا پنیر مقرر ہوا ہے۔ حنفی مسلک میں گندم یا آٹے سے ادائیگی کی صورت میں نصف صاع کافی ہے، جبکہ دیگر اجناس سے پورا ایک صاع دیا جاتا ہے۔ صاع ایک قدیم پیمانہ ہے، اس لیے علماء نے اسے تقریباً وزن میں یوں بیان کیا ہے:

جنس مقدار تقریباً وزن
گندم / آٹا (حنفی) نصف صاع تقریباً پونے دو کلو (اندازاً 1.6–2 کلو)
جو ایک صاع تقریباً ساڑھے تین کلو (اندازاً 2.5–3.25 کلو)
کھجور / کشمش ایک صاع تقریباً ساڑھے تین کلو (اندازاً 2.5–3.25 کلو)

واضح رہے کہ صاع کے وزن میں مختلف تخمینے ملتے ہیں کیونکہ اجناس کی کثافت الگ الگ ہوتی ہے، اس لیے اوپر دیے گئے وزن تقریبی ہیں۔

فطرانہ 2026 کی نقد قیمت

بہت سے لوگ فطرانہ اجناس کے بجائے نقد رقم میں ادا کرتے ہیں، جو حنفی مسلک میں جائز ہے۔ نقد قیمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے علاقے میں گندم یا متعلقہ جنس کی موجودہ قیمت کیا ہے۔ چونکہ قیمتیں ہر سال اور ہر ملک و شہر میں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے کسی مقررہ رقم کا دعویٰ کرنا درست نہیں۔ عملی طریقہ یہ ہے کہ اپنے شہر میں نصف صاع (تقریباً پونے دو کلو) گندم یا آٹے کی موجودہ قیمت معلوم کریں، یا اپنے مقامی مستند ادارے/علماء کی جاری کردہ فطرانہ کی شرح دیکھ لیں۔ اوپر موجود کیلکولیٹر میں موجودہ قیمت درج کر کے فوری رقم نکالی جا سکتی ہے۔

عملی مثال

فرض کریں آپ کے شہر میں گندم 100 روپے فی کلو ہے (قیمت محض مثال کے لیے)۔ نصف صاع تقریباً پونے دو کلو مان لیں تو فی فرد فطرانہ ≈ 1.75 × 100 = 175 روپے کے قریب بنے گا۔ اگر گھر میں پانچ افراد ہیں تو کل فطرانہ ≈ 5 × 175 = 875 روپے۔ یہ صرف ایک مثال ہے؛ اصل رقم اپنے علاقے کی موجودہ قیمت پر لگائیں۔

فطرانہ ادا کرنے کا وقت

افضل یہ ہے کہ فطرانہ عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے تاکہ غریب عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ رمضان کے آخری دنوں میں پہلے سے ادا کرنا بھی جائز ہے۔ اگر کوئی عید کی نماز کے بعد ادا کرے تو وہ ادا تو ہو جائے گا مگر افضل وقت نکل جائے گا۔

اجناس دیں یا نقد رقم؟

فطرانہ اصل میں اجناس (گندم، جو، کھجور، کشمش) کی صورت میں مقرر ہوا، مگر حنفی مسلک میں ان کی قیمت نقد رقم میں دینا بھی جائز ہے، اور اکثر یہی زیادہ کارآمد ہوتا ہے کیونکہ مستحق اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے۔ کچھ علماء اصل جنس دینے کو افضل قرار دیتے ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں غذائی قلت ہو۔ آپ اپنے علاقے کی صورتِ حال دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں؛ دونوں طریقے شرعاً درست ہیں اور فطرانے کا مقصد غریب کی مدد ہے۔

فطرانہ اور سالانہ زکوٰۃ میں فرق

لوگ اکثر فطرانہ اور زکوٰۃ کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دونوں میں واضح فرق ہے۔ سالانہ زکوٰۃ مال پر واجب ہوتی ہے، اس کی شرح ڈھائی فیصد ہے، اور اس کے لیے نصاب و حول کی شرط ہے۔ اس کے مقابلے میں فطرانہ ہر فرد کی طرف سے ایک مقررہ مقدار میں واجب ہوتا ہے اور اس کا تعلق رمضان کے اختتام اور عید سے ہے۔ ایک صاحبِ حیثیت شخص پر دونوں الگ الگ واجب ہو سکتے ہیں: مال پر زکوٰۃ اور رمضان کے آخر میں فطرانہ۔

پہلو فطرانہ سالانہ زکوٰۃ
کس پر واجب ہر فرد کی طرف سے صاحبِ نصاب مال پر
مقدار نصف/ایک صاع یا قیمت خالص مال کا ڈھائی فیصد
وقت عید سے پہلے سال مکمل ہونے پر

فطرانہ کن کو دیا جائے؟

فطرانہ انہی مستحقین کو دیا جاتا ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں، یعنی خاص طور پر فقراء اور مساکین۔ اس کی مکمل فہرست زکوٰۃ کن کو دی جائے میں موجود ہے۔ فطرانہ اور سالانہ زکوٰۃ دونوں الگ عبادات ہیں؛ مال کی سالانہ زکوٰۃ کا حساب زکوٰۃ کیلکولیٹر سے، اور اس کا طریقہ زکوٰۃ کیسے نکالیں میں دیکھیں۔ نصاب کی تفصیل نصابِ زکوٰۃ اور سونے کی زکوٰۃ کا طریقہ سونے کی زکات میں ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

آج کی ہجری تاریخ اور رمضان و عیدین کے کاؤنٹ ڈاؤن کے لیے آج کی اسلامی تاریخ دیکھیں۔

Frequently asked questions

فطرانہ کتنا ہے؟

حنفی مسلک میں فی فرد نصف صاع گندم یا آٹا (تقریباً پونے دو کلو) یا اس کی موجودہ قیمت۔ کھجور، جو یا کشمش سے ادا کیا جائے تو پورا ایک صاع (تقریباً ساڑھے تین کلو)۔

فطرانہ کس پر واجب ہوتا ہے؟

ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر جو عید کی صبح بنیادی ضروریات سے زائد نصاب کے برابر مال رکھتا ہو۔ گھر کا سربراہ اپنی اور زیرِ کفالت افراد کی طرف سے ادا کرتا ہے۔

فطرانہ 2026 میں نقد کتنا بنے گا؟

نقد قیمت ہر سال اور ہر علاقے میں بدلتی ہے۔ اپنے شہر میں نصف صاع (تقریباً پونے دو کلو) گندم کی موجودہ قیمت معلوم کریں یا مقامی مستند ادارے کی جاری کردہ شرح دیکھ لیں۔

فطرانہ ادا کرنے کا افضل وقت کیا ہے؟

افضل یہ ہے کہ عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ رمضان کے آخری دنوں میں پہلے سے ادائیگی بھی جائز ہے۔

کیا فطرانہ نقد رقم میں دیا جا سکتا ہے؟

جی، حنفی مسلک میں اجناس کی جگہ اس کی قیمت نقد رقم میں دینا جائز ہے، جو اکثر مستحقین کے لیے زیادہ کارآمد ہوتا ہے۔

فطرانہ اور زکوٰۃ میں کیا فرق ہے؟

زکوٰۃ سالانہ مال پر واجب ہوتی ہے اور اس کی شرح ڈھائی فیصد ہے، جبکہ فطرانہ رمضان کے اختتام پر ہر فرد کی طرف سے ایک مقررہ مقدار میں واجب ہوتا ہے۔

فطرانہ کن لوگوں کو دیا جائے؟

فطرانہ انہی مستحقین کو دیا جاتا ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں، خاص طور پر فقراء اور مساکین، تاکہ وہ بھی عید کی خوشی میں شامل ہو سکیں۔

کیا چھوٹے بچوں کی طرف سے بھی فطرانہ دینا ہوگا؟

جی، گھر کا سربراہ اپنے زیرِ کفالت نابالغ بچوں کی طرف سے بھی فطرانہ ادا کرتا ہے۔ عید سے پہلے پیدا ہونے والے نومولود کی طرف سے بھی ادا کرنا مستحب ہے۔