The Zakat Calculator

زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ آسان طریقہ

By the Editorial Team · reviewed against our sources · updated September 2026 · guidance, not a fatwa

مختصر جواب: پہلے اپنے تمام اثاثے (نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت) کی موجودہ مالیت جوڑیں، پھر واجب قرض منہا کریں۔ اگر باقی رقم نصاب کے برابر ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو تو اس پر ڈھائی فیصد نکالیں۔ یہی آپ کی زکوٰۃ ہے۔

اہم نکات

  • سب سے پہلے زکوٰۃ کی ایک مقررہ اسلامی تاریخ طے کریں۔
  • تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کی مالیت جوڑیں۔
  • واجب الادا قرض منہا کریں۔
  • خالص مال کو نصاب سے موازنہ کریں۔
  • نصاب پر ہو تو ڈھائی فیصد (÷40) نکالیں۔
  • رقم مستحق افراد یا مستند اداروں کو دیں۔

قدم بہ قدم طریقہ

زکوٰۃ نکالنا مشکل نہیں، بس ایک ترتیب سے آگے بڑھنا ہے۔ ذیل میں سادہ مراحل بیان کیے گئے ہیں جنہیں اپنا کر کوئی بھی شخص خود اپنی زکوٰۃ کا حساب لگا سکتا ہے۔ حساب کی سہولت کے لیے آپ زکوٰۃ کیلکولیٹر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

پہلا قدم: زکوٰۃ کی تاریخ مقرر کریں

سب سے پہلے سال میں ایک دن مقرر کریں، مثلاً یکم رمضان یا کوئی اور اسلامی تاریخ، جب آپ ہر سال اپنے مال کا جائزہ لیں گے۔ چونکہ زکوٰۃ کا مدار قمری سال پر ہے، اس لیے اسلامی تاریخ طے کرنا شمسی تاریخ سے بہتر ہے۔ اسی مقررہ دن آپ کے اثاثوں کی جو حالت ہوگی، اسی پر حساب ہوگا۔

دوسرا قدم: اثاثوں کی فہرست بنائیں

اپنے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے لکھیں: ہاتھ میں موجود نقدی، بینک بیلنس، سونا، چاندی، مالِ تجارت، اور وہ قرض جو آپ نے دوسروں کو دیا اور واپسی کی توقع ہے۔ ہر مد کی موجودہ بازاری مالیت لکھیں، خریداری کی پرانی قیمت نہیں۔ ذاتی مکان، پہننے کے کپڑے اور روزمرہ کی گاڑی اس فہرست میں شامل نہیں ہوتے۔

تیسرا قدم: قرض اور واجبات منہا کریں

کل مالیت سے وہ قرض منہا کریں جو آپ پر واجب الادا ہیں، جیسے کسی سے لیا ہوا ذاتی قرض یا بقایا بل۔ باقی جو رقم بچے، وہ آپ کا خالص قابلِ زکوٰۃ مال ہے۔

چوتھا قدم: نصاب سے موازنہ

اب دیکھیں کہ خالص مال نصاب کو پہنچتا ہے یا نہیں۔ ملے جلے اثاثوں کی صورت میں عام طور پر چاندی کے نصاب (612.36 گرام کی موجودہ قیمت) سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اگر خالص مال اس سے کم ہے تو زکوٰۃ فرض نہیں؛ اگر برابر یا زیادہ ہے تو اگلا قدم اٹھائیں۔

پانچواں قدم: ڈھائی فیصد نکالیں

خالص مال پر ڈھائی فیصد لگائیں۔ فارمولا: خالص مال ÷ 40۔ یہی رقم آپ کی سالانہ زکوٰۃ ہے۔

مرحلہ کارروائی مثال (روپے)
1 کل اثاثے جوڑیں 10,00,000
2 واجب قرض منہا −1,00,000
3 خالص مال 9,00,000
4 ڈھائی فیصد (÷40) 22,500

مکمل عددی مثال

فرض کریں مقررہ دن آپ کے پاس نقدی 6,00,000 روپے، مالِ تجارت 3,00,000 روپے اور 1 تولہ سونا (فرضی قیمت 2,00,000 روپے) ہے، جبکہ آپ پر 1,00,000 روپے واجب قرض ہے۔ کل اثاثے = 6,00,000 + 3,00,000 + 2,00,000 = 11,00,000 روپے۔ قرض منہا کے بعد خالص مال = 10,00,000 روپے۔ زکوٰۃ = 10,00,000 ÷ 40 = 25,000 روپے۔ اسی حساب کو ایک اور زاویے سے یوں سمجھ لیں: دس لاکھ کا ڈھائی فیصد نکالنے کے لیے آپ اسے 0.025 سے ضرب دیں تو بھی نتیجہ 25,000 روپے ہی آئے گا۔ اگر خالص مال اس سے کم یا زیادہ ہو تو رقم اسی تناسب سے بدل جائے گی، مثلاً پانچ لاکھ خالص مال پر زکوٰۃ 12,500 روپے اور پندرہ لاکھ پر 37,500 روپے بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ درست اعداد درج کرنا سب سے اہم مرحلہ ہے، کیونکہ چھوٹی سی غلطی بھی حتمی رقم پر اثر ڈالتی ہے۔

چھٹا قدم: زکوٰۃ ادا کریں

نکالی گئی رقم شریعت کے مقرر کردہ آٹھ مصارف میں سے کسی مستحق کو دیں۔ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے، اس کی تفصیل زکوٰۃ کن کو دی جائے میں موجود ہے۔ زکوٰۃ ادا کرتے وقت دل میں زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت ہونی چاہیے۔

حساب کو آسان رکھنے کی تجاویز

زکوٰۃ کا حساب سال بھر کے کاغذات دیکھ کر ایک ساتھ کرنے کے بجائے، سال کے دوران اثاثوں کا ریکارڈ رکھنا زیادہ آسان ہے۔ ایک سادہ کاپی یا موبائل نوٹ میں اپنی نقدی، بینک بیلنس، سونا اور مالِ تجارت کی مالیت لکھتے رہیں۔ جب زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ آئے تو صرف موجودہ قیمتیں اپ ڈیٹ کریں اور کل نکال لیں۔ اس طرح کوئی مد بھولنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور حساب چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو مالِ تجارت کی سالانہ گنتی (اسٹاک) کا وقت زکوٰۃ کی تاریخ کے قریب رکھنا مفید رہتا ہے۔

مشترکہ خاندان اور کاروبار میں زکوٰۃ

مشترکہ خاندان میں ہر بالغ فرد اپنی ملکیت کے مال پر خود زکوٰۃ کا ذمہ دار ہوتا ہے، اِلا یہ کہ مال واقعی مشترک ہو۔ کاروباری شراکت داری میں ہر شریک اپنے حصے کے سرمائے اور منافع پر زکوٰۃ دیتا ہے۔ اگر مال آپس میں گڈمڈ ہو تو پہلے ہر ایک کا حصہ الگ کریں، پھر اسی حساب سے زکوٰۃ نکالیں۔ ان پیچیدہ صورتوں میں اگر تقسیم واضح نہ ہو تو کسی مستند عالم یا اہلِ علم سے رہنمائی لینا بہتر ہے تاکہ کسی کا حق نہ مارا جائے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر سے بچیں

جب سال مکمل ہو جائے اور زکوٰۃ واجب ہو جائے تو بلا ضرورت تاخیر مناسب نہیں۔ فوری ادائیگی میں یہ فائدہ ہے کہ حق داروں تک مدد جلد پہنچتی ہے اور ذمہ داری وقت پر ادا ہو جاتی ہے۔ اگر یکمشت ادائیگی مشکل ہو تو ضرورت کے مطابق مرحلہ وار بھی دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ نیت زکوٰۃ کی ہو اور رقم مقررہ مصارف میں خرچ ہو۔ اپنی سہولت کے لیے بہتر ہے کہ رمضان جیسے بابرکت مہینے کو زکوٰۃ کی تاریخ بنا لیا جائے، تاکہ اجر بھی زیادہ ہو اور یاد بھی رہے۔

مخصوص اموال کے لیے رہنمائی

اگر آپ کے پاس زیادہ تر سونا یا زیورات ہیں تو ان کا الگ طریقہ سونے کی زکات میں تفصیل سے بیان ہے۔ نصاب کی مکمل وضاحت نصابِ زکوٰۃ میں ہے، اور یہ کہ زکوٰۃ کن مستحقین کو دی جائے، اس کی فہرست زکوٰۃ کن کو دی جائے میں موجود ہے۔ رمضان میں فطرانہ الگ عبادت ہے جس کا ذکر فطرانہ کے صفحے پر ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں؛ مسائل مذاہب کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں، کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

Frequently asked questions

زکوٰۃ نکالنے کا سب سے آسان طریقہ کیا ہے؟

تمام اثاثوں کی موجودہ مالیت جوڑیں، واجب قرض منہا کریں، خالص رقم کو نصاب سے موازنہ کریں، اور نصاب پر ہونے کی صورت میں ڈھائی فیصد نکال لیں۔

زکوٰۃ کی تاریخ کیسے مقرر کریں؟

سال میں ایک اسلامی تاریخ طے کریں جب آپ ہر سال مال کا جائزہ لیں۔ قمری سال کی بنیاد پر تاریخ مقرر کرنا شمسی تاریخ سے زیادہ درست ہے۔

کیا سونے چاندی کی قیمت پرانی لگائیں یا موجودہ؟

ہمیشہ ادائیگی والے دن کی موجودہ بازاری قیمت لگائی جاتی ہے، خریداری کی پرانی قیمت نہیں۔

خالص مال کیسے نکالتے ہیں؟

کل اثاثوں کی مالیت سے واجب الادا قرض اور واجبات منہا کر دیں؛ جو رقم باقی بچے وہی خالص قابلِ زکوٰۃ مال ہے۔

ڈھائی فیصد کیسے نکالیں؟

خالص مال کو 40 پر تقسیم کریں یا 0.025 سے ضرب دیں۔ مثلاً دس لاکھ روپے پر زکوٰۃ 25,000 روپے بنتی ہے۔

کیا زکوٰۃ ایک ساتھ یا قسطوں میں دی جا سکتی ہے؟

زکوٰۃ سال مکمل ہونے پر واجب ہوتی ہے اور فوری ادائیگی بہتر ہے، تاہم ضرورت پر مستحقین کو مرحلہ وار بھی دی جا سکتی ہے۔ نیت زکوٰۃ کی ہونی چاہیے۔

کیا زکوٰۃ ادا کرتے وقت نیت ضروری ہے؟

جی ہاں، ادائیگی کے وقت دل میں زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت ہونی چاہیے، خواہ رقم براہِ راست دیں یا کسی معتبر ادارے کے ذریعے۔